وادی مشکے کے مختلف علاقوں میں دو دن سے آپریشن جاری ہے۔
ضلع آواران سے آمدہ اطلاعات پچھلے دو دن سے پاکستانی فوج تنک ندی میں گھس کر تنک سے گذرنے والے ندی نالوں کے راستے بند کرکے آپریشن کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ تنک ندی مشکے کو پنجگور واشک اور کیلکور سے ملاتی ہے۔اور تنک ندی میں بیشمار خانہ بدوش رہتے ہیں۔
کوہ اسپیت،پتندر،مرغ آپ،جہانی آپ، فورسز پہاٹی علاقوں میں داخل ہو چکی ہے،زمینی فوج کے ساتھ چار گن شپ ہیلی کاپٹر بھی اس آپریشن کا حصہ ہیں۔راغے سکن کی جانب بھی فوجی آپریشنز کی اطلاعات ہیں۔
واضح رہے کہ تنک ندی میں ہی چٹوک ندی آتی ہے جہاں میر ساہو کی بستی واقع ہے۔جہاں فوج نے 2012 میں انکے بستی پر ہیلی کاپٹروں زریعے شیلنگ کرکے انکے شریک حیات اور جوان سال بیٹے علی اور بھتیجی چار سالہ بختی سمیت سات خواتین اور حضرات کو شہید کردیاتھا۔جبکہ دوہزار بیس میں دو اور بھتیجوں واجو اور شعیب کو ھلاک کرکے انکے مال مویشی لوٹ کر لے گئے تھے۔اس کے علاوہ پس ہیل اور سولیر کا علاقہ بھی تنک ندی سے جڑا ہواہے جہاں سینکڑوں خاندان رہتے ہیں۔اسی طرح اور دسیوں ندی نالے موجود ہیں جو خانہ بدوشوں کے صدیوں سے مسکن چلے آرہے ہیں۔ان پر بھی پچھلے پندرہ سالوں سے پاکستانی فوج آگ اور آہن برسا رہی ہے۔کبھی انکو خواتین سمیت اغوا کیا جاتاہے تو کبھی لہو لہان کرکے پھینک دیتا جاتا ہے۔