افغان طالبان کا اپنے جنگجوﺅں کو غیر ملکیوں کو پناہ نہ دینے کا حکم

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

افغان طالبان نے اپنے جنگجوﺅں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں غیر ملکیوں کو پناہ نہ دیں اور اس تاثر کو زائل کریں کہ امریکہ سے گزشتہ برس ہونے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

طالبان کے نام نہاد ملٹری کمشنز نے جنگجوﺅں کو ارسال کردہ مبینہ پیغام میں ہدایت کی ہے کہ ‘تمام کمانڈرز اور مجاہدین غیر ملکیوں کو تنظیم میں کسی بھی قسم کا عہدہ دینے یا انہیں پناہ دینے سے اجتناب کریں۔”

طالبان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ حکم نامہ کی خلاف ورزی کرنے والے کو کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور ایسے شخص کو تنظیم سے الگ بھی کیا جا سکتا ہے۔

پشتو زبان میں جاری ہونے والے مذکورہ احکامات کی تصدیق کے لیے غیر ملکی نشریاتی ادارے وائس آف امریکہ نے جب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا وہ اعلیٰ ذمہ داران سے معلومات حاصل کرنے کے بعد ہی کوئی جواب دے سکتے ہیں۔

طالبان کی جانب سے مبینہ احکامات ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر جو بائیڈن کی حکومت نے امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری 2020 میں ہونے والے امن معاہدے پر نظر ثانی کا عندیہ دیا تھا۔

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے بدھ کو میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ طالبان سے ہونے والے امن معاہدے پر نظرثانی کا عمل جاری ہے۔

یاد رہے کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طے پانے امن معاہدے کے تحت یکم مئی کو تمام غیر ملکی افواج کو افغانستان سے نکلنا ہے۔ طالبان نے بھی ضمانت دی تھی کہ وہ غیر ملکی افواج کو نشانہ نہیں بنائیں گے اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بننے والی عالمی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ رابطے نہیں رکھیں گے۔

طالبان پر اب بھی الزام عائد کیا جاتا ہے کہ انہوں نے افغانستان میں عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے ساتھ تعلقات منقطع نہیں کیے۔

افغان رہنماﺅں کی جانب سے مسلسل الزامات عائد کیے جا رہے ہیں کہ دوحہ میں جاری بین الافغان مذاکرات کے باوجود طالبان سیکیورٹی فورسز اور عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

افغانستان کے سابق سفارت کار عمر صمد نے بدھ کو اپنے ایک ٹوئٹ میں طالبان کے اس حکم نامے کی خبر کو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ طالبان ہوشیاری کے ساتھ ایسے موقع پر نئے اقدامات اٹھا رہے ہیں جب امریکی حکومت امن معاہدے پر نظر ثانی کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام فریقین کے لیے ضروری ہے کہ وہ ذمہ داری کے ساتھ فیصلے اور اقدامات کریں کیوں کہ بہت سی چیزیں داﺅپر لگی ہوئی ہیں۔

طالبان پر گہری نظر رکھنے والے اقوامِ متحدہ کے ایک پینل نے رواں ماہ شائع ہونے والی اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ باغیوں نے اپنے وعدے کے خلاف القاعدہ کے ساتھ رابطوں کو برقرار رکھا۔

اقوامِ متحدہ کی ‘اینالیٹیکل سپورٹ اینڈ سینکشن مانیٹرنگ ٹیم’ کی جانب سے مرتب کردہ اس رپورٹ میں مختلف ملکوں کی انٹیلی جنس سروسز کی معلومات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ تنظیم کے رکن ممالک نے طالبان اور القاعدہ کے درمیان تعلقات میں نمایاں تبدیلیوں کے انتہائی کم ثبوت سامنے آنے کی اطلاع دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق القاعدہ کے اس وقت لگ بھگ 200 سے 500 جنگجو افغانستان کے کم از کم 11 صوبوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ تاہم طالبان نے اقوامِ متحدہ کی ان معروضات کو مسترد کر دیا ہے۔

طالبان نے افغانستان کے ان علاقوں میں القاعدہ کے جنگجوﺅں کی موجودگی کے الزامات مسترد کر دیے ہیں جو ان کے کنٹرول میں ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment