بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں اتوار کے دن انجمن اتحاد ماہی گیران کے ایک اجلاس میں گوادر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ ادارے کے خلاف ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اجلاس میں سربندن کے حدود میں ’اسپیڈ بوٹ‘ استعمال کرنے والے ایسے ماہی گیروں کے بارے میں شکایت پیش کی گئی جو بقول انجمن اتحاد ماہی گیران سمندر میں مقامی ماہی گیروں کے جالوں کو کاٹ کر انہیں مالی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ماہی گیروں کے مطابق آج سربندن کے ایک ماہی گیر کی جالیں کاٹ کر انہیں 3 لاکھ روپے کی خطیررقیم کا نقصان پہنچایا گیا۔
انہوں نے شکوہ کیا کہ متعلقہ اداروں اور شہر کی ماہی گیر تنظیموں کے عہدیداران کو اس رویے کے خلاف شکایت کی گئی لیکن اس کا تاحال کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔
ماہی گیروں نے اس بارے میں درخواست کی ہے اسپیڈ بوٹ استعمال کرنے والے ماہی گیروں کو چاہئے کہ وہ جالوں کو کاٹنے سے گریز کریں اور غریب ماہی گیروں کو نقصان نہ پہنچائیں۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اس مسئلے پر ’پیر‘ کے دن ڈپٹی کمشنر گوادر سے ملاقات کی جائے گی۔
واضح رہے کہ اسپیڈبوٹ کے انجمن کے ’پنکھا‘میں جال آنے سے بعض افراد انہیں نکالنے کی بجائے چاقو کے ذریعے کاٹ کر گانٹھ لگائے بغیر سمند میں پھینک دیتے ہیں جس سے بعض اوقات ماہی گیروں کی جال گم ہوجاتے ہیں جس سے انہیں بھاری مالی نقصان ہوتا ہے۔
مذکورہ اجلاس میں جی ٹی کی کھدائی نہ کرنے، فلوٹنگ جی ٹی کے کام میں گذشتہ ایک سال کے تعطل اور دیگر مسائل پر بھی بات کی گئی۔