آٹھ ماہ ریاستی تشدد کا شکار نوجوان بازیاب ہونے کے بعد ایک بار گرفتار کر لیا گیا ہے
ضلع خضدار سے آمدہ اطلاعات کے مطابق 13 جون 2020 سے لاپتہ ہونے والے طالب علم اعظم ولد داؤد جو کہ 12 جنوری 2021 کو رہا ہوکر گھر پہنچ گیا تھا،اسے گذشتہ ہفتے کو اسسٹنٹ کمیشنر خضدار نے مزید تفتیش کے نام پر دوبارہ خضدار میں بلا کر اسے سینٹرجیل خضدار منتقل کر دیا۔
اعظم ولد داؤد کو پاکستانی فوج نے 13 جون 2020 کو ایک فوجی آپریشن کے دوران گرفتار کرکے لاپتہ کردیا تھا۔اسے 12 جنوری 2021 یعنی آٹھ مہینے بعد رہا کیا گیا تھا۔دوران قید وہ ذہنی اور جسمانی طور پر کافی کمزور ہوچکا تھا اس پر پاکستان کے خلاف وال چاکنگ کے الزامات لگائے گئے تھے۔
اعظم ولد داود سیکینڈئر کا طالب علم ہے جو کرونا کے لاک ڈاؤن کے دوران اپنے اپنے علاقہ میں آیا تھا۔اسے فوجی جارحیت کے دوران گرفتاری کے بعد لاپتہ کردیا گیا تھا۔
اعظم ولد داود کی ماں نے حکام اور عدالت سے اپنے بیٹے کو بحفاظت رہا کرنے کی اپیل کی ہے۔بوڑھی ماں کا کہنا ہے آٹھ مہینے بغیر کسی جرم کے اعظم کو لاپتہ رکھا گیا جو میرے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔جب گذشتہ ہفتے بازیاب ہوکر گھر پہنچ گیا تو میں نے خدا کا شکریہ ادا کیا۔لیکن میرے بیٹے کو دوبارہ بلا کر جیل منتقل کر دیا میرے لیے جینا دوبر ہوگیا ہے۔