کوہلو،خاران و ہرنائی میں فوجی آپریشنز و جھڑپیں جاری،2افرادلاپتہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع کوہلو،خاران اور ہرنائی میں پاکستانی فورسز کی جانب سے فوجی آپریشن کی جارہی ہے۔ جہاں دو افراد کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیاہے۔جبکہ کوہلو میں فورسز اور مسلح افراد میں جھڑپوں کی بھی اطلاعات ہیں۔

بلوچستان کے ضلع کوہلو میں پاکستانی فوج نے آج صبح آپریشن کا آغاز کیا، اس دوران فورسز اہلکاروں اور مسلح افراد میں جھڑپ کی اطلاعات ہیں۔

مقامی ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز نے کوہلو اور سبی کے درمیانی علاقے بیجی کور میں آج علی الصبح پیش قدمی کی، گن شپ ہیلی کاپٹروں نے مذکورہ پہاڑی علاقے میں شیلنگ کی جس کے بعد پیدل فورسز مذکورہ مقام پر پہنچ گئے۔

دوران آپریشن فورسز اور مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں، تاہم تاحال دونوں اطراف سے جانی اور مالی نقصانات کے حوالے سے کوئی خبر موصول نہیں ہوسکی ہے۔

اسی طرح اطلاعات ہیںکہ خاران شہر کے مختلف علاقوں سمیت ک±لان میں فوجی آپریشن کی جارہی ہے۔ کلان میں گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں جبکہ آمد و رفت کے راستوں پر ناکہ بندی کرکے چیکنگ بھی جاری ہے۔

ک±لان سے فورسز نے دو افراد کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے جن کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی ہے۔

دریں اثنا ہرنائی کے پہاڑی سلسلوں میں فوجی آپریشن کی جارہی ہے۔ زاوی اور گردنواح کے علاقوں میں ہیلی کاپٹروں کی گشت جاری ہے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق زاوی اور گردونواح کو جانے والے راستوں کو آمد و رفت کیلئے بند کردیا گیا تاہم حکام کی جانب سے آپریشن کے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئی ہے۔

خیال رہے گذشتہ دنوں بھی ہرنائی اور بولان کے مختلف علاقوں میں فورسز کی جانب سے کئی گھنٹوں تک مارٹر گولے فائر کیے گئے تھیں۔

واضع رہے کہ ضلع آواران میں بھی پاکستانی زمینی فوج نے دراسکی، والی، تیرتیج، گواش کو مکمل محاصرے میں لیا ہوا ہے اور آپریشن کا سلسلہ جاری ہے۔

فورسز کی متعدد گاڑیوں کے قافلے پہاڑی علاقوں میں داخل ہوچکے ہیں جبکہ پیدل فوج کی بڑی تعداد اس آپریشن میں شامل ہے۔

حکام نے تاحال مذکورہ علاقوں میں فوجی آپریشن اور چھاپوں سے متعلق کوئی موقف پیش نہیں کیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment