ڈاکٹر منان کے نقش قدم پر چل کر شہید یا آزاد ہونا ہے، ڈاکٹراللہ نذر

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ “ٹوئٹر” پراپنے ایک ٹویٹ میں شہید ڈاکٹر منان بلوچ کی شہادت کی پانچویں برسی کے مناسبت سے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ

ڈاکٹر منان بلوچ کو بچپن سے ہی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی ماں کا انتقال ہوا تو انہوں نے اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ سخت زندگی گزاری۔ 1986 میں اس کے والد کو اس وقت ہلاک کردیا گیا جب ہم دونوں ہائی اسکول میں تھے۔ وہ چار سال تک ٹیچر رہے پھر بھی میڈیکل آفیسر بننے تک اپنی جدوجہد اور تعلیم جاری رکھے۔ پھر وہ اپنا عہدہ چھوڑ کر بلوچ تحریک آزادی کا سیاسی چہرہ بن گئے۔ وہ کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں رکا۔ منان جان کے لئے بے حد پیار اور احترام۔ ہمارا مقصد ان کے نقش قدم پر چلنا ہے، یا تو شہید ہونا یا آزاد ہونا ہے۔

https://twitter.com/DAN__Baloch/status/1355261976881016833

واضع رہے کہ ڈاکٹر منان بلوچ کو تیس جنوری دو ہزار سولہ کو ایک تنظیمی دورے کے دوران پاکستانی فوج نے مستونگ میں ساتھیوں سمیت بی این ایم کے ایک ممبر کے گھر میں گھس کر گولیوں سے بون کر شہید کیا۔

بی این ایم کے مطابق مستونگ میں بی این ایم کے سینئر ممبر اشرف بلوچ کے مہمان خانے میں انہیں معروف قلمکار بابو نوروز، اشرف بلوچ اور اس کے بھائی حنیف بلوچ اور ساجد بلوچ کے ساتھ شہید کیا گیا۔

Share This Article
Leave a Comment