ووہان میں ڈبلیو ایچ اونے کرونا وائرس کے آغاز پر تحقیق شروع کردی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

عالمی ادارہ صحت کے وفد کا چین میں دو ہفتوں کا قرنطینہ جمعرات کو ختم ہو گیا ہے جس کے بعد ماہرین پر مشتمل ٹیم نے کرونا وائرس کے آغاز پر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

چین نے ابتدا میں بین الاقوامی تحقیقات کے مطالبے سے انکار کیا تھا۔ لیکن اب وفد کو مناسب رسائی کا وعدہ کیا ہے۔ ٹیم ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، اسپتالوں اور اس مارکیٹ میں افراد سے انٹرویو کرے گی جہاں سب سے پہلے کرونا وائرس کا آغاز ہوا تھا۔

عالمی ادارہ صحت کے وفد کے رکن مائیک ریان کے مطابق “ہم یہاں وائرس کے پھیلنے کی وجہ تلاش کرنے آئے ہیں جو ہمیں مستقبل میں محفوظ رکھنے کے کام آئیں گے۔ ہم نہ مجرم ڈھونڈنے آئے ہیں اور نہ ہی کسی پر الزام دھرنے۔”

یاد رہے کہ کرونا وائرس 2019 کے اواخر میں چین کے شہر ووہان میں نمودار ہوا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے عالمی وبا بن گیا۔

اب تک 120 ممالک نے بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جن میں بہت سی حکومتیں چین پر دیر سے اقدامات اٹھانے کا الزام عائد کرتی ہیں۔

وائٹ ہاو¿س کی ترجمان جین ساکی کا کہنا ہے کہ “یہ بہت اہم ہے کہ ہم وبا کے ابتدا کے دنوں کی گہرائی تک جائیں اور ہم شروع سے بین الاقوامی تحقیقات کے حق میں تھے اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ درست اور شفاف ہو۔”

کرونا وائرس کی عالمی وبا سے اب تک دنیا بھر میں دس کروڑ سے زائد افراد متاثر اور 21 لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment