بی ایس او کے سابق رہنما زبیر بلوچ کے گھر پر فورسز حملے کی مزمت کرتے ہیں،ایچ آر سی پی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

ضلع کیچ ایچ آر سی پی نے بی ایس او کے سابق سیکرٹری جنرل زبیر بلوچ کے گھر پر فورسز کے حملے کی مزمت کی ہے۔

ایچ آر سی پی ریجنل آفس تربت مکران کے ترجمان کی طرف سے ایک پریس ریلیزکے توسط سے 18جنوری2021ء کی شام کو بی ایس او پجّار کے سابق سیکرٹری جنرل زبیر بلوچ کے گھر واقع للین تحصیل تربت ضلع کیچ پر چھاپے کی شدید مذمت کی گئی ہے اور اسے دادا گری کی ایک واضح مثال قرار دے کر مسترد کردیا گیا ہے، پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 18جنوری2021 ء کی شام کو جبکہ زبیر بلوچ اپنے کسی ضروری کام سے کراچی گئے ہوئے تھے، بعض مسلح سرکاری اور ریاستی اہلکاروں نے نہایت دیدہ دلیری کے ساتھ چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے، اْن کے گھر میں بلا اجازت گھس کر گھر میں موجود عورتوں کو بلا وجہ بْرا بھلا کہا، مارا پیٹا اور انہیں ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں دھمکیاں دینے اور ہراساں کرنے کے بعد چلے گئے،۔

یہاں سوال یہ پیداہوتا ہے کہ کیاسرکاری اور ریاستی اہلکاروں کا کام شہریوں کو تحفظ اور سہولیات فراہم کرنا ہے، یا پھر انہیں بْرا بھلا کہنا، مارنا پیٹا،دھمکیاں دینا اورنقصان پہنچانا ہے؟ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ سیکورٹی فورسز کا یہ عمل چونکہ غیر آئینی، غیر قانونی، غیر اخلاقی، غیر ذمہ دارانہ، ظالمانہ اور دہشت گردانہ ہے جن کی وجہ سے پْر امن گھریلو عورتوں کے بنیادی انسانی حقوق کی صریحاً خلاف ورزیاں ہوئی ہیں لہٰذا اْن کے اس عمل کی شدید مذمت کی جاتی ہے اور انہیں سختی سے تنبیہ کی جاتی ہے کہ آئندہ اس قسم کے عمل سے پرہیز کیا جائے اور بین الاقوامی قوانین کے ساتھ ساتھ اپنے ملکی آئین و قوانین کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے شریف شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق سلب نہ کئے جائیں اور ملک کو بدنام نہ کیا جائے۔

Share This Article
Leave a Comment