کیپیٹل ہل پر ٹرمپ کے حامیوں کی ہنگامہ آرائی ایک بغاوت ہے، جو بائیڈن

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

نومبر 2020 میں امریکہ کا صدارتی انتخاب جیتنے والے جو بائیڈن نے اپنی کامیابی کی توثیق کے لیے منعقد ہونے والے امریکی کانگریس کے مشترکہ اجلاس پر صدر ٹرمپ کے حامیوں کا دھاوا بولنے کے عمل کو ’بغاوت‘ قرار دیا ہے۔

جو بائیڈن نے سبکدوش ہونے والے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ آگے بڑھیں اور تشدد کو مسترد کر دیں۔ اس بیان کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے جنھوں نے پہلے مظاہرین کو کانگریس کی جانب جانے کو کہا تھا، مظاہرین سے کہا کہ وہ ’گھر چلے جائیں۔‘

بدھ کو کیپیٹل ہل پر ہونے والی ہنگامہ آرائی کے دوران ایک خاتون ہلاک ہوئی ہے جبکہ پولیس نے 13 افراد کو حراست میں لینے کے بعد واشنگٹن ڈی سی میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

آخری اطلاعات کے مطابق کیپیٹل ہل کی عمارت کو مظاہرین سے خالی کروا کے محفوظ بنا لیا گیا ہے اور اب وہاں 2700 سکیورٹی اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔

ہنگامہ آرائی کی وجہ سے کانگریس کا مشترکہ اجلاس ملتوی کرنا پڑا تھا جو اب دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔

اس ہنگامہ آرائی کے دوران مظاہرین پولیس کی جانب سے لگائی گئی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے یو ایس کیپیٹل کی عمارت میں داخل ہو گئے تھے جہاں وہ ٹرمپ کے حق میں نعرے بازی کرتے ہوئے صدارتی انتخاب کے نتائج کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کرتے رہے۔

اس دوران ٹی وی پر دکھائے جانے والے مناظر میں امریکی کانگریس کے اراکین کو اپنی نشستوں کے نیچے پناہ لیتے اور آنسو گیس سے بچنے کے لیے گیس ماسک پہنتے دیکھا گیا۔

ہنگامہ آرائی کی وجہ سے کانگریس کا مشترکہ اجلاس ملتوی کرنا پڑا تھا جو اب دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔

ریاست ڈیلاویئر کے شہر ولمنگٹن سے اپنے پیغام میں جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکہ میں جمہوریت پر وہ حملہ ہوا ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں صدر ٹرمپ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ قومی ٹی وی پر آئیں اور اپنے حلف کی پاسداری کرتے ہوئے آئین کا تحفظ کریں۔‘

جو بائیڈن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’کیپیٹل میں گھس جانا، کھڑکیاں توڑنا، امریکی سینیٹ کے دفاتر پر قبضہ کرنا اور منتخب اراکین کے لیے خطرہ بننا، احتجاج نہیں، یہ بغاوت ہے۔‘

جو بائیڈن کے اس پیغام کے بعد ٹوئٹر پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر صدارتی انتخاب ’چوری‘ کیے جانے کا الزام دہراتے ہوئے کیپیٹل ہل کے اندر اور باہر موجود اپنے حامی مظاہرین سے مطالبہ کیا کہ وہ اب اپنے گھروں کو لوٹ جائیں۔

اپنے ویڈیو پیغام میں صدر ٹرمپ نے اپنے حامیوں سے کہا کہ ’مجھے معلوم ہے آپ تکلیف میں ہیں۔ مجھے معلوم ہے آپ کو دکھ ہوا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم سے الیکشن چرایا گیا ہے۔۔۔۔یہ ہر کوئی جانتا ہے، خاص طور پر دوسری جانب والے لیکن اب آپ کو گھر جانا ہو گا۔‘

انھوں نے انتخابی مہم کے اس نعرے کو دہرایا کہ ’ہمیں امن حاصل کرنا ہو گا، ہمیں آئین اور قانون نافذ کرنا ہو گا۔‘

ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کے اس پیغام کو تنبیہ کے ساتھ جاری کیا اور اسے ری ٹویٹ ہونے سے بھی روک دیا۔ ٹوئٹر نے صدر ٹرمپ کے اکاو¿نٹ کو 12 گھنٹے کے لیے لاک بھی کر دیا ہے تاکہ وہ مزید ٹویٹس نہ کر سکیں۔

Share This Article
Leave a Comment