واشنگٹن ڈی سی کی پولیس کا کہنا ہے کہ کیپیٹل ہل ہر صدر ٹرمپ کے حامیوں کی ہنگامہ آرائی کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چار ہے۔
ان میں سے ایک خاتون پولیس کی گولی سے ہلاک ہوئیں جبکہ دیگر تین طبی مسائل کی وجہ سے جان سے گئے۔
پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ اب تک 52 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے 47 کرفیو کی خلاف ورزی پر پکڑے گئے ہیں۔
واشنگٹن ڈی سی کی میئر باو¿زر اور پولیس چیف رابرٹ کونٹی نے اب سے کچھ دیر قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران کیپٹل ہل میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں ہونے والے نقصان اور مجموعی صورتحال کے حوالے سے بات کی ہے۔
انھوں نے اس دوران ہونے والی ہلاکتوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جس خاتون کو پولیس کی جانب سے گولی مار کر ہلاک کیا گیا وہ متعدد افراد کے اس گروہ کا حصہ تھیں جنھوں نے اجلاس کے دوران زبردستی عمارت میں گھسنے کی کوشش کی تھی۔
اس گروہ کو سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے پکڑنے کی کوشش کی اور اس دوران ایک افسر کو اسلحے کا استعمال کرنا پڑا۔
اس خاتون کو ہسپتال لے جایا گیا جہاں پہنچنے پر ان کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی۔ ان کی شناخت اس وقت تک نہیں بتائی جائے گی جب تک ان کے قریبی رشتہ داروں کو اطلاع نہ دے دی جائے۔
انھوں نے دیگر اموات کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ہلاک ہونے والے تین دیگر افراد میں ایک ادھیڑ عمر خاتون اور دو مرد شامل ہیں۔ ان تینوں کی موت مختلف نوعیت کی طبی ایمرجنسیز کے باعث ہوئی۔
میٹرو پولیس ڈیپارٹمنٹ کے تقریباً 14 افراد اس دوران زخمی بھی ہوئے جن میں سے دو کو ہسپتال داخل کروانا پڑا۔ ان میں سے ایک کو شدید چوٹیں آئیں کیونکہ انھیں گھسیٹ کر مجمعے میں لایا گیا تھا۔
امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کی میئر نے شہر میں ایمرجنسی میں 15 روز کی توسیع کر دی ہے۔ یعنی اب یہ ایمرجنسی جو بائیڈن کی حلف برداری تک جاری رہے گی۔
میئر میریئل باو¿زر نے بتایا کہ ’متعدد افراد شہر میں مسلح گروہ کی صورت میں آئے تھے اور ان کا مقصد یہاں تشدد اور انتشار پھیلانا تھا۔ ان کی جانب سے پتھراو¿ بھی کیا گیا، بوتلیں بھی پھینکی گئیں اور اسلحے کا استعمال بھی کیا گیا۔
اس فیصلے کے بعد انتظامیہ کو شہر میں اضافی وسائل منگوانے میں مدد ملے گی جس کے ذریعے وہ شہر میں کرفیو کا نفاذ، ایمرجنسی سروسز کا دائرہ وسیع کرنے اور لوگوں تک خوراک کی فراہمی یقینی بنا پائیں گے۔
یہ حکم نامہ 21 جنوری کی دوپہر تین بجے تک نافذ العمل رہے گا، یعنی نو منتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری کے ایک دن بعد تک۔
شہر میں اس وقت میئر کی جانب سے کرفیو نافذ کیا گیا ہے جو مقامی وقت کے مطابق بدھ شام چھ بجے سے جمعرات صبح چھ بجے تک رہے گا جبکہ اب تک درجنوں افراد کو اس کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔