افغانستان میں ایک اور صحافی کو قتل کردیا گیا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

افغانستان کے مرکزی صوبے غور میں نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ سے 28 سالہ صحافی بسم اللہ ایمک کو ہلاک کر دیا۔

ہفتے حکام نے بتایا کہ افغانستان میں گزشتہ دو ماہ کے دوران پانچ صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق ‘صدائے غور’ ریڈیو اسٹیشن کے ایڈیٹر انچیف کو صوبائی دارالحکومت فیروز کوہ کے قریب نشانہ بنایا گیا۔

صحافی کے قتل کی ذمہ داری فوری طور پر کسی عسکری تنظیم نے قبول نہیں کی۔

غور کے نائب گورنر حبیب اللہ کا کہنا تھا کہ صدائے غور ریڈیو سے 2015 سے منسلک صحافی بسم اللہ کو فیروز کوہ میں نا معلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔

افغان صدر اشرف غنی نے صحافی کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت آزادی اظہارِ رائے کی حمایت کرتی ہے اور اسے فروغ دینے میں مصروف ہے۔

اشرف غنی کا ٹوئٹ میں مزید کہنا تھا کہ ‘طالبان’ اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں ایسے حملوں سے صحافیوں کی آوازوں کو دبا نہیں سکتے۔

افغان صحافی کی ہلاکت پر امریکہ نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی عہدیدار روس ولسن کا واقعے پر ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ صحافیوں پر کیے جانے حملے بزدلانہ اور ہتک آمیز ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آزادی اظہار پر ہونے والے حملے بند ہونے چاہئیں۔

قائم مقام افغان وزیر برائے ثقافت اور اطلاعات طاہر زوہیر نے حکومت سے صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی حفاظت کرنے کا مطالبہ کیا۔

صحافیوں سے گفتگو میں طاہر زوہیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اقوام متحدہ اور یورپی یونین کو لکھے گئے خط میں اپیل کی کہ وہ افغانستان میں صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔

اس کے علاوہ جمعے کو سول سوسائٹی کے ایک کارکن کو بھی نامعلوم حملہ آوروں نے قتل کر دیا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment