بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ کل منگل کو امریکہ اور نیدرلینڈ میں کینڈاکے سفارت خانوں کے سامنے بانک کریمہ کی پاکستانی ایجنسیوں کے ہاتھوں شہادت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اورسفارت خانے میں یادداشتیں پیش کی گئیں۔ مظاہرے میں بلوچوں کے علاوہ دوسری اقوام نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین نے شہید بانک کریمہ کی تصاویر اٹھاکر پاکستان کے خلاف نعرے لگائے اور کینیڈا کی حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس قتل کے خلاف جامع تحقیقات کرکے قاتلوں کی نشاندہی کرے۔
بی این ایم کی جانب سے امریکہ میں منگل کی دوپہر کو مظاہرین نے واشنگٹن ڈی سی میں کینیڈا کے سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کرکے مطالبہ کیا کہ بلوچ سیاسی رہنما بانک کریمہ بلوچ کی شہادت پر پاکستان کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کو سامنے رکھ کر باضابطہ تحقیقات کئے جائیں۔ وہ ہماری ایک عظیم آواز تھیں۔ اتوار بیس دسمبر کو اسے لاپتہ کیا گیا اور اگلے روز اس کی لاش کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں ملی۔ ہمیں معلوم ہے کہ انہیں آزاد بلوچستان کی جدوجہد میں پاکستان کی جانب سے متعدد دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اس مظاہرے میں بی این ایم کے ساتھ گلگتی، پشتون، مہاجروں اور سندھیوں نے بھی شرکت کی۔ مظاہرین میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ انہوں نے کریمہ بلوچ کی تصویریں اور پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے۔ مظاہرین نے سفارت خانے سامنے ”کریمہ بلوچ کو کس نے مارا؟ ہمیں جوابات کی ضرورت ہے” کے نعرے لگائے۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بی این ایم رہنما نبی بخش بلوچ نے کہا کہ ہم یہ قبول نہیں کرتے ہیں کہ یہ حادثہ تھا یا خودکشی تھی کیونکہ اس کو بہت زیادہ دھمکیاں مل رہی تھیں۔ اس کے ماموں کو 2016 میں اغوا کیا گیا تھا اور اس کے دو سال بعد اسے شہید کرکے اس کی لاش پھینک دی گئی تھی۔ نبی بخش نے کہا کہ بلوچ صحافی ساجد حسین رواں سال کے شروع میں سویڈن میں لاپتہ ہوگئے تھے۔ ان کی لاش دو مہینے بعد اسی طرح ایک ندی میں ملی تھی۔
بی ایس او کے سابقہ چیئرمین وحید بلوچ نے مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ کریمہ، تحریک آزادی کی چمکتی ہوئی ستارہ تھیں۔ ان کے قتل سے سیاسی قوت اکٹھا ہوجائے گی کیونکہ کریمہ پہلی خاتون کارکن ہیں جنھیں بلوچستان سے باہر قتل کیا گیا۔ کریمہ پہلی ممتاز، خاتون سرگرم سیاسی بلوچ رہنما تھیں۔ یہی کریمہ کی اہمیت ہے۔ انہیں پاکستان نے مار ڈالا ہے اور اسی وجہ سے یہ قتل غائب نہیں ہوگا۔
انسٹی ٹیوٹ آف گلگت بلتستان کے ڈائریکٹر سینگ ایچ سیرنگ نے کریمہ کی شہادت کی مذمت کی اور احتجاج میں اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سیاسی رہنما کے قتل کی ذمہ دار پاکستانی حکومت ہے۔ وہ عزم اور حوصلہ رکھنے والی شخصیت تھیں۔ وہ ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے امید اورحوصلہ تھیں، ٰلہٰذا پولیس کے لئے یہ کہنا کہ اس کی موت خودکشی سے ہوئی تھی، یہ پاکستان اور آئی ایس آئی کا گندا کھیل ہے۔
گلگت بلتستان کے سینئر صحافی پیر زبیر شاہ نے کہا کہ وہ بھی پاکستان سے جان بچا کر امریکہ میں پناہ لینے آ گئے تھے لیکن ہم جیسے کارکن اب خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتے ہیں۔ کریمہ ایک بہادر عورت تھی اور مجھے نہیں لگتا کہ جس طرح پولیس ہمیں کہتی ہے۔ ہم کینیڈا کی حکومت کی طرف سے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
نیدرلینڈ میں مظاہرین سے بی این ایم نیدرلینڈ کے صدر کیّا بلوچ، جاسم بلوچ، گہرام بلوچ، ماہ گنج بلوچ، انیل نعیم اور عمران حکیم نے خطاب کیا۔
کیا بلوچ نے کہا کہ میں بانک کریمہ کو سرخ ٍسلام پیش کرتا ہوں۔انہوں نے جس میدان میں قدم رکھی تھی اس میں وہ آخر تک ڈٹی رہی۔ آج اگر بلوچ خواتین سڑکوں پرموجود ہیں تو اس کا کریڈٹ کریمہ بلوچ کو جاتا ہے۔ وہ تمام محکوم قوموں کی آواز تھیں۔ ہمیں اپنے لوگوں کو ان کی زندگی میں پہچاننا چاہیے۔ موت کے بعد افسوس کرنا یا اس کی تعریفیں کرنا کافی نہیں ہے۔ ان کی موت کوئی حادثہ نہیں ہے۔ جب اس نے پناہ طلب کی تو دوران پراسس پاکستانی حکام نے مداخلت کرکے انہیں ڈیپورٹ کرنے کا مطالبہ کیا۔ آئی ایس آئی نے دھمکی آمیز پیغامات بھی بھیجے۔ ہم نے ایک بہترین دوست اور بہترین انسان کھودیا ہے۔ آج ہم یہاں یہ مطالبہ کرنے آئے ہیں کہ کریمہ کی قتل پر شفاف تحقیقات کئے جائیں۔
گہرام بلوچ نے کہا کہ پاکستان کئی سالوں سے بلوچستان میں بلوچ قوم پر مظالم ڈھا رہی ہے۔ اب اس نے بیرون ملک یہی شروع کیا ہے۔ ہماری سیاسی سرگرمیوں پر بلوچستان میں پابندی لگائی گئی ہے۔ ہمارے دانشور، ڈاکٹرز اور ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو مارا جارہا ہے کیونکہ پاکستان کو دنیا کی جانب سے کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ کریمہ بلوچ یہی سوچ کر باہر ممالک میں آ گئی تھیں کہ وہ یہاں آزادی کے ساتھ سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔ کینیڈا پولیس کی جانب سے کریمہ بلوچ کی موت کو حادثہ قرار دینا افسوسناک ہے۔
عمران بلوچ نے کہا کہ وہ بی ایس او آزاد کی پہلی خاتون سربراہ تھیں۔ اس نے ہزاروں بلوچ خواتین کو متاثر کیا۔ دو ہزار سولہ میں اسے بلوچستان کی جددجہد میں نمایاں کارنامے انجام دینے پر بی بی سی کے سو بااثر خواتین میں شامل کیا گیا۔ ہم اسے سلام اور خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
جاسم بلوچ نے کہا کہ شہید کریمہ کی شہادت نہ صرف بلوچ قوم اور بلوچ جہد آزادی کیلئے بہت بڑی نقصان ہے بلکہ یہ تمام محکوم قوموں کیلئے ایک نقصان ہے۔ وہ ایک بہادر لیڈر تھیں۔ اس نے پاکستانی مظالم کو دنیا کے سامنے آشکار کیا۔ اس نے دو ہزار پانچ میں اس وقت بی ایس او جوائن کیا جب بی ایس او آزاد کی بانی رہنما ڈاکٹراللہ نذر بلوچ اپنے ساتھیوں سمیت پاکستانی خفیہ ٹارچر سیلوں میں تھے۔ وہ بی ایس او میں سینٹر ل کمیٹی سے لیکر چیئرپرسن کے عہدے تک پہنچیں۔ ایک خاتون لیڈر کی حیثیت سے وہ پہلی سربراہ تھیں۔ کریمہ بلوچ نے اپنی سینئر ساتھیوں کی شہادت کے بعد بی ایس او آزاد کی کمان سنبھال کر اسے دوبارہ منظم کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ کینیڈا میں سیاسی پناہ کے بعد اس نے خود کو محفوظ سمجھا لیکن کینیڈا اسے تحفظ دینے میں ناکام رہا۔ اس کی شہادت سے ہم صدمے میں ضرور آگئے لیکن یہ ہمارے لئے موٹیویشن بھی ہے۔ جنرل مشرف نے اعلانیہ کہا تھا کہ باہر رہنے والی جہدکاروں کا نشانہ بنایا جائے۔ سویڈن میں بلوچستان ٹائمز کے ایڈیٹر ساجد حسین کو بھی اسی طرح قتل کرکے شہید کیا گیا۔ بیس دسمبر کو افغانستان میں گل بہار بگٹی اور اس کے بیٹے کو شہید کیا گیا۔ بلوچ سیاسی کارکن اور پناہ گزین باہر بھی پاکستان کی خفیہ اداروں سے محفوظ نہیں ہیں۔
ماہ گنج بلوچ نے کریمہ بلوچ کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ بیس دسمبر کو کریمہ بلوچ گھر سے نکل کر واپس نہیں آتی ہیں۔ اگلے دن اس کی لاش ایک پانی سے ملتی ہے۔ جلد ہی پولیس اسے غیرمجرمانہ فعل قراردیتی ہے۔ اسے ہم مسترد کرتے ہیں کیونکہ انہیں پاکستانی ایجنسیوں نے قتل کیا ہے۔ اسے پاکستانی ایجنسیوں سے دھمکی ملی تھی کہ وہ بلوچ جہد آزادی سے دستبردار ہوجائے۔ آج وہ جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں لیکن اس نے ہم جیسے کئی خواتین کو متاثر کرکے اس راہ کا راہی بنایا ہے۔
انیل نعیم نے کہا کہ کریمہ بلوچ پاکستانی آرمی سے جان بچا کر کینیڈا پہنچیں لیکن یہاں بھی اس کا پیچھا کرکے انہیں قتل کیا گیا۔ میں کینیڈا سرکار سے مطالبہ کرتا ہوں کہ تحقیقات کرکے اصل حقائق کو سامنے لایا جائے۔
آخر میں کیّا بلوچ نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا ور کینیڈین سفارت خانے میں ایک یادداشت پیش کی