افغانستان میں قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل کے ترجمان فریدون خوازون نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث افغان امن مذاکرات کا دوسرا دور قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منعقد ہو گا۔
ترجمان فریدون کا کہنا تھا کہ متعدد ممالک نے امن بات چیت کی میزبانی کی پیشکش کی تھی تاہم ان کے بقول یہ بات چیت دوحہ میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق قومی مفاہمت کی اعلیٰ کونسل کی لیڈرشپ کمیٹی نے افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ ایجنڈے میں شمولیت کیلئے طالبان کی طرف سے پیش کردہ نکات پر طالبان ٹیم کے ساتھ بات چیت کرے۔
اتوار کو قومی مفاہمت کی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے اتوار کو صدر غنی سے ملاقات کی جس میں بین الافغان مذاکرات کے آئندہ دور کے مقام کے بارے میں تبادلہ خیال کیا، جس کے بعد افغان صدر کے دفتر نے ایک ٹوئٹ میں بتایا کہ صدر غنی نے اس موقع پر افغان حکومت کی طرف سے بات چیت کے دوسرے مرحلے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
جب کہ اطلاعات کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کے ایک ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ابتدائی بات چیت کیلئے دوحہ کا انتخاب اس لئے کیا گیا ہے تاکہ امن مذاکرات مزید تاخیر کا شکار نہ ہوں۔
دوسری جانب افغانستان میں امن کے امور سے متعلق وزارت کی ترجمان ناجیہ انوری کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیم اس وقت افغانستان کے اندر سیاست دانوں اور سوسائٹی کے سرکردہ رہنماو¿ں سمیت مختلف فریقوں سے صلاح مشورے کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے مذاکراتی ٹیموں کے درمیان رواں سال 12 ستمبر کو بین الافغان مذاکرات شروع ہوئے تھے جو کئی ہفتوں تک جاری رہے اور فریقین نے بات چیت کا ایجنڈا طے کرنے کے بعد 14 دسمبر کو بات چیت میں تین ہفتے کے وقفے کا اعلان کیا تھا۔
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا تھا کہ پانچ جنوری سے بات چیت کا آئندہ دور افغانستان میں ہونا چاہیے۔ صدر غنی نے اس کے ساتھ طالبان کو یہ بھی پیش کش کی تھی کہ افغان حکومت طالبان سے افغانستان کے کسی بھی علاقے میں ان سے مذاکرات کر سکتی ہے۔