سب سے بڑا اختلاف پارٹی سے ”ایف“ کو نکالنے پر ہوا،حافظ حسین احمد

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

جمعیت علمائے اسلام سے نکالے گئے حافظ حسین احمد نے میڈیا کوبتایا کہ پارٹی کے اندر کافی عرصے سے اختلافات چل رہے تھے اور سب سے بڑا اختلاف پارٹی سے ’ایف` کو نکالنے پر ہوا۔ ان کے مطابق ہمارے خیال میں ایف کا مطلب سوائے ذاتی فائدے کے اور کچھ نہیں۔ ’ہمارے خدشات درست ثابت ہوئے اور وقت کے ساتھ ساتھ فوائد بڑھتے چلے گئے۔‘

حافظ حسین احمد کے مطابق پارٹی نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم صدر پاکستان کے لیے انتخاب نہیں لڑیں گے مگر جب نواز شریف نے مولانا فضل الرحمان سے صدارت کا امیدوار بننے کے لیے کہا تو وہ دوڑ کر کھڑے ہو گئے۔ بات صرف یہیں نہیں رکی بلکہ انھوں نے اپنے بیٹے مفتی اسعد محمود کو خود ہی قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کا امیدوار بھی نامزد کر دیا۔

حافظ حسین احمد نے پارٹی قیادت پر بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے۔

ان کے مطابق پارٹی نے مولانا فضل الرحمان پر یہ واضح بھی کیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کے خلاف فوج میں بغاوت کروانا ہماری پارٹی کا بیانیہ اور پالیسی نہیں ہے مگر اس کے باوجود وہ اس راہ پر چل پڑے۔

حافظ حسین احمد کے مطابق پارٹی کے فیصلوں کو بھی جب نظر انداز کیا گیا اور ان پر عمل نہ ہوا تو پھر ہم نے اختلافی آواز اٹھانا شروع کر دی۔

انھوں نے کہا کہ ’اب ہم پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ہمیں شاید ’کہیں‘ سے اشارے مل رہے تو میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ گذشتہ سال آزادی مارچ سے اٹھ کر چوہدری شجاعت اور چوہدری پرویز الہیٰ کے ساتھ پنڈی میں ایک اہم شضیت سے ملنے کون گیا تھا اور پھر مارچ تک حکومت گرانے کی یقین دہانی پر آزادی مارچ کے خاتمے کا اعلان کس نے کیا تھا۔‘

حافظ حسین احمد کے مطابق اس ملاقات کی تصدیق خود پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کی ہے مگر اس اہم ملاقات سے پہلے اور نہ ہی بعد میں کسی نے پارٹی کو اعتماد میں لیا۔

حافظ حسین احمد طویل عرصے تک پارلیمنٹ میں جے یو آئی کی آواز بنے رہے۔ وہ 1988 کے انتخابات کے بعد چار بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

حافظ حسین احمد کے مطابق وہ جے یو آئی کے سنہ 1973 میں رکن بنے جب اس پارٹی کی قیادت مولانا فضل الرحمان کے والد مفتی محمود کے ہاتھوں میں تھی۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی پارٹی میں شمولیت 1980 میں ہوئی۔

ان کے مطابق انھیں پارٹی رکنیت سے اخراج کے بارے میں ٹی وی کے ذریعے پتا چلا۔ اس فیصلے سے متعلق کوئی نوٹس ملا اور نہ کسی نے کبھی وضاحت طلب کی۔

حافظ حسین احمد کے مطابق ہم نے اندرونی اجلاسوں میں یہ بھی بار بار مطالبہ کیا کہ جس طرح پی ڈی ایم (حزب اختلاف کی 11 جماعتوں کا اتحاد) شفاف انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے ایسے ہی پارٹی کے اندر بھی شفاف انتخابات کرائے جائیں۔ ان کے مطابق اس مطالبے کا مقصد ہی یہی تھا کہ پارٹی اصولوں پر چلے نہ کہ موروثی طور پر چلے۔

ان کے مطابق اس وقت ان کے ہزاروں سینیئر ساتھیوں کو اختلافات ہیں اور وہ پارٹی کی بقا کی خاطر چپ بیٹھے ہیں۔

ان کے مطابق ہم خود بھی کئی سال سے خاموش بیٹھے ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق ہم نے سوال پوچھا تھا کہ ہم کیوں کسی کے کہنے پر تحریک چلائیں اور ایک ایسی تحریک جس کے فیصلوں کو ویٹو کرنے کا اختیار بلاول بھٹو کو حاصل ہو جبکہ نواز شریف بیماری کے نام پر 11 ماہ خود خاموش بیٹھا رہے تو پھر سوالات تو اٹھتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment