بلوچستان میں ڈیفنس ہائوسنگ اتھارٹی ایکٹ کی بعض شقیں غیرآئینی قرار

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان ہائی کورٹ نے ڈیفنس ہاو¿سنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) ایکٹ کی بعض شقوں کو غیر آئینی اور کالعدم قرار دے دیا۔

بلوچستان کے چیف جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی اور جسٹس نعیم اختر افغان، جسٹس ہاشم خان کاکڑ، جسٹس عبدالحمید بلوچ اور جسٹس عبد اللہ بلوچ پر مشتمل بلوچستان ہائی کورٹ بنچ نے ڈی ایچ اے ایکٹ 2015کو چیلنج کرنے والے وکیل کاشف کاکڑ کی جانب سے دائر آئینی درخواست کی سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلے کا اعلان کیا۔

چیف جسٹس نے دونوں طرف سے حتمی دلائل سننے کے بعد فیصلہ پڑھ کر سنایا اور کوئٹہ ڈی ایچ اے ایکٹ 2015 کی شقیں 2-q، شق 6b، شق 1-14 اور 14b کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شقیں آئین پاکستان سے متصادم ہیں۔

بینچ نے کوئٹہ ڈی ایچ اے کے ایگزیکٹو بورڈ کو کچھ مخصوص علاقہ بنانے کے لیے دی جانے والی اجازت کو بھی کالعدم قرار دیا۔

عدالت نے کوئٹہ ڈی ایچ اے کی اراضی کے حصول کے لیے دی گئی اجازت کو بھی غیر آئینی قرار دے دیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ صرف وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کے مفاد میں اراضی حاصل کرسکتی ہیں اور اس وقت کی حکومت کو یہ اختیار حاصل نہیں تھا کہ وہ کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کو زمین کے حصول کے اختیارات فراہم کرے۔

عدالت نے کہا کہ سرکاری ادارے کو اجازت دینے کے بجائے غیر سرکاری ادارے کو زمین کے حصول کے لیے ترجیح دی گئی، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجلس قانون ساز کے پاس قانون بنانے یا اس میں ترمیم کا حق ہے لیکن اسے آئین کی شقوں سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔

عدالت نے کہا کہ جس طرح سے ڈی ایچ اے ایکٹ کے لیے قانون سازی کی گئی اس سے اس وقت کی حکومت اور اسمبلی کے ممبران کی نااہلی ظاہر ہوتی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment