پاکستان میں حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا لاہور میں جلسہ شروع ہو گیا ہے۔
پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمان، مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، سردار اختر مینگل، محمود خان اچکزئی، میاں افتخار حسین اور دیگر اپوزیشن رہنماو¿ں کی بڑی تعداد بھی سٹیج پر موجود ہے۔
مریم نواز نے اپنی تقریر کا آغاز لہوریو، زندہ باد سے کیا۔ انھوں نے کہا ’اللہ دی قسم اے لہوریو اج تسی مینوں خوش کر دتا اے‘۔
انھوں نے کہا کہ وہ کون تھا جو کہتا تھا مینار پاکستان میں جلسہ کر کے دکھائیں وہ آج کر دیکھیں کہ نہ صرف مینار پاکستان بلکہ باہر سڑکیں بھی بھر چکی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان کا یہاں 2011 کا جلسہ آئی ایس آئی کے سربراہ شجاع پاشا نے کروایا تھا۔
انھوں نے کہا یہ کہتے تھے کہ نہ اجازت دیں اور نہ کرسیاں دیں گے۔ اب ہم کہتے ہیں کہ ’نہ تمھاری اجازت کی ضرورت ہے اور نہ تمھاری کرسیوں کی ضرورت ہے، اپنے پاس ہی رکھو۔‘
انھوں نے کہا لاہور بڑے بھائی کے طور پر سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو خوش آمدید کہتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ لاہور کی طرف سے یہ پیغام ہے کہ لاہور ایک سگے بھائی کا کردار ادا کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ بڑے بھائی کا نہیں بلکہ سب برابر ہیں، سگے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے لاہور اسلام آباد اور چاروں صوبوں کو آپس میں جوڑے گا۔
مریم نواز نے کہا کہ لاہور میں ایک نہیں بلکہ کئی درجنوں جلسے ہو چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ لاہور کے اس تاریخی جلسے کے بارے میں میڈیا کو فون آ رہے ہیں کہ آپ نے کہنا ہے کہ یہ جلسہ ناکام ہو چکا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ فون کہاں سے آتے ہیں۔ ان کے مطابق لاہوریوں نے مینار پاکستان کے نیچے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔
انھوں نے کہ لاہوریوں نے عوام دشمن حکومت کو مینار پاکستان کی بلندی سے اٹھا کر نیچے پھینک دیا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ جس تبدیلی کی بنیاد 2011 میں اس مینار پاکستان کے نیچے رکھی گئی تھی آج لاہوریوں نے اس جعلی تبدیلی کو یہیں پر دفن کر دیا ہے۔
انھوں نے کہا تین سال کون فرعون کے لہجے میں کہتا رہا کہ میں این آر او نہیں دونگا اور آج پی ڈی ایم کی اس تحریک کے نتیجے میں پی ڈی ایم اور نواز شریف سے این آر او مانگ رہا ہے۔
انھوں نے وزیر اعظم عمران خان کو مخطاب کرتے ہوئے کہا کہ یاد رکھو مسٹر تابعدار۔۔ اس کے بعد شرکا سے پوچھا کہ بندہ تابعدار کون ہے اور وہ کس کی تابعداری کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یاد رکھوں کہ مسٹر تابعدار خان اب این آر او نہیں دے گا۔ انھوں نے کہا نواز شریف اس تابعدار خان کو این ار او نہیں دے گا۔
انھوں نے کہا کہ ’اب نواز شریف پاکستان کی ترقی چھیننے والوں کو این آر او نہیں دے گا۔‘
انھوں نے شرکا سے درخواست کی کہ وہ جلسوں میں ضرور آئیں مگر ماسک پہن کر آئیں کیونکہ مجھے آپ لوگوں کی زندگی زیادہ عزیز ہے۔ انھوں نے شرکا سے کہا کہ یاد رکھو کہ کووڈ-19 سے زیادہ خطرناک کووڈ-18 ہے جس کا نام تابعدار خان ہے، عمران خان ہے۔
انھوں نے کہا جب سے یہ جعلی مینڈیٹ لے کر آیا ہے تو پاکستان کی ترقی قرنطینہ میں چلی گئی ہے، پاکستان کی چین، گندم، سستا آٹا، سستی بجلی، گیس، سستی گیس، میڈیا، روزگار، اور غریب مریض کی دوائی بھی قرنطینہ میں چلی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان کو جنرل پاشا اور جنرل ظہیر کی حمایت حاصل رہی۔
انھوں نے سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تمھیں کہا تھا کہ میرے پاس لاو¿ درخواست میں پانامہ کا فیصلہ کرتا ہوں۔ پھر تم نے فکس میچ کے ذریعے نواز شریف کو باہر نکالا پھر 2018 میں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو الیکشن سے باہر نکالا۔
ان کے مطابق وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ اتنا نالائق نکلے گا۔ یہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ اتنا نالائق نکلے گا۔
مریم نواز کے مطابق آج اس کی نالائقی کا جواب ان کے سیلیکٹرز کو دینا پڑ رہا ہے، لوگ کہہ رہے ہیں کہ یہ سوغات آخر کہاں سے ڈھونڈ کر لائے ہو۔
پاپا جانز پیزا کس کا ہے؟
مریم نواز نے عمران خان سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہے تم میں جرات کے جنرل عاصم سلیم باجوہ کے پاپا جانز پیزا کا حساب پوچھ سکو۔
انھوں نے شرکا سے پوچھا کہ کیا آپ جانتے ہیں کہ پاپا جانز پیزا کس کا ہے۔ اس کے بعد انھوں نے مالم جبہ، پشاور میٹرو بس سروس اور سونامی ٹری نامی منصوبے میں مبینہ بدعنوانی کا ذکر کیا۔
بہنوئی کے پلاٹ کی خاطر کتنے آئی جیز بدل دیے۔
مریم نواز نے کہا کہ اب عمران خان کہتا ہے کہ پارلیمنٹ میں بیٹھ کر اپوزیشن سے بات کرنے کو تیار ہے۔
کون سی پارلیمنٹ؟ وہی جو آئی ایس آئی کا ایک ریٹائرڈ کرنل چلا رہا ہے، کیا وہاں بیٹھ کر بات ہو گی۔
وہ والی سینیٹ جس کو آج ایک ریٹائرڈ کرنل چلاتا ہے اس میں بیٹھ کر بات کرنی ہے؟ مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ اس ریٹائرڈ کرنل کا نام پورا اسلام آباد جانتا ہے۔
مریم نواز نے اپنے خطاب میں کہا کہ کیا آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کا مطالبہ غیر آئینی ہے۔ کیا پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل چھ کے مقدمے کا مطالبہ غیر آئینی ہے۔ کیا انتخابات کے دن آر ٹی ایس کو نواز شریف نے بٹھایا تھا۔ کیا کشمیر کو مودی کے حوالے نواز شریف نے کیا تھا۔
کیا شوکت عزیز صدیقی پر مرضی کے فیصلے کے لیے نواز شریف نے دباو¿ ڈالا تھا۔ کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس نواز شریف نے بنایا تھا۔
اس کے بعد مریم نواز نے وزیر اعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’تم کو جانا ہو گا۔‘
نواز شریف نے شرکا سے پوچھا کہ اگر اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنا پڑے تو نکلو گے اسلام آباد کی طرف، اور جتنے دن رکنا پڑے، اپنی بہن کے ساتھ رکو گے۔