بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹیوٹر پر اپنے ٹیوٹس میں کہا ہے کہ ریاست ]پاکستان[ نے بلوچستان میں اراضی پر غیر قانونی قبضہ، لوگوں کی گھروں سے زبردستی بیدخلی، بڑے پیمانے پر نگرانی، لاپتہ ہونے اور ”مارو اور پھینکو“ کی پالیسی کے بعد گوادر میں مضبوط قدم رکھنے کیلئے ریاست نے اب شہر کو باڑ لگانے کا سہارا لیا ہے۔
اس سے محض یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چینیوں کی تعمیر کردہ گہرا بندرگاہ اور نام نہاد سی پیک بلوچ قوم کے لئے ایک اور لعنت ہے۔ بلوچستان پہلے ہی فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہوچکا تھا لیکن اب اس کے شہر بڑے پیمانے پر جیلوں میں تبدیل کئے جا رہے ہیں۔
بلوچوں کا اس کے خلاف مزاحمت ضروری اور جائز ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی چاہئے کہ وہ بلوچستان میں اس طرح کے فاشسٹ اقدامات کی مزاحمت کریں اور انکی آواز سنیں۔