گوادر شہر کوسیکورٹی کے حوالے سے محفوظ بنانے کے لئے شہر کے اردگردباڑ لگانے کے کام کی شروعات کردی گئی ہے۔
باڑ لگنے کے بعد گوادر کے قریبی علاقے نگور،جیونی اور پیشکان دوسرے ملحقہ علاقے کے لوگ آزادانہ طریقے سے آمدورفت نہیں کرسکیں گے جبکہ دوسری جانب سیاسی جماعتوں کی جانب سے گوادر سٹی کے اردگرد باڑلگانے کے عمل پر تشویش کا اظہار کیاگیا ہے۔
اس سلسلے میں نیشنل پارٹی کے صوبائی ورکنگ کمیٹی کے ممبر آدم قادر بخش نے کہا ہے کہ کچھ روز قبل گوادر شہر کے ایک حصے کی طرف پنسنگ کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے جو قابل تشویش ہے۔
پنسنگ کا عمل شروع ہونے کے بعد نگور اور ملحقہ علاقوں کے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور خدشہ ہے کہ اس سے شہریوں کی آزادانہ نقل و عمل محدود ہوکر رہ جائے گی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ شہر کی پنسنگ یا باڑ لگانے کے کیا مقاصد ہیں وہ بھی مخفی رکھے گئے ہیں اس کے علاوہ یہ شہری آزادی کے بھی منافی عمل ہے جسے ہم کسی بھی صورت قبول نہیں کرتے اس کو منسوخ کیا جائے۔
واضع رہے کہ سی پیک منصوبوں کی مکمل سیکورٹی کی ذمہ داری پاکستانی فوج کے حوالے ہے لیکن اس کے باوجود بلوچ آزادی پسند مسلح قوتوں کی جانب سے پی سی ہوٹل ،گوادر پورٹ اور چینی انجینئرز پر کاامیاب حملوں کی وجہ سے پاکستانی فوج کی سیکورٹی اقدامات پر سوال اٹھے اور اب پورے شہر کو سیکورٹی بارڈ کے حصار میں دیا جارہا ہے لیکن بعض ذرائع بتاتے ہیں کہ گوادر میں چینی فوج پیپلز لیبریشن آرمی موجود ہے اور اسی کی سیکورٹی کیلئے گوادر شہر کے گرد بارڈ لگانے کا کام شروع کیا گیا ہے۔