آج سے قبل دو دن ایک نیوز دیکھی جس میں یونیورسٹی آف آزاد جموں کشمیر کے وائس چانسلر بمعہ ڈین آف فیکلٹی آرٹس کے ڈائریکٹر اور سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن کی جانب سے ایک لیفٹیننٹ کرنل ایک معائدے پر دستخط کر رہے ہیں جس کے مطابق یونیورسٹی کی عمارت جو سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کے لئے مختص تھی کو ایس سی او کے حوالے کیا جا رہا ہے اور دعوی کیا جا رہا ہے کے متعلقہ ادارہ وہاں کوئی فری آئی ٹی پارک بنا کر دے گا۔
سوشل میڈیا پر کافی ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے جس کے مطابق جو خدشات ہیں درست ہیں لیکن دوسری جانب سے یہ عذر بھی پیش کیا جا رہا ہے کے یونیورسٹی کی بلڈنگ محکمہ تعلیم کی ملکیت ہے جسے مرضی چاہے دے۔ ٹھیک ہے وہ محکمہ تعلیم کی ملکیت ہے یونیورسٹی کیمپس چھتر شفٹ ہو چکا اور پرانے کیمپس کے متعلق وومن یونیورسٹی کے قیام کا کہا گیا تھا جو کے وقت کی ضرورت ہے۔ اب آئی ٹی پارک وومین یونیورسٹی سے زیادہ اہم ہے؟
پھر یہ دلیل کے مفت آئی ٹی پارک ہے۔ یونیورسٹی کی ایک پوری بلڈنگ آرمی کے حوالے کر دی گئی ہے متعلقہ سروسز کے چارجز اور فنڈز اکٹھے کئے جائیں گے ان سب کے باوجود مفت کیسے ہو ئی؟
اگر مقصد طلباء کے لئے صحیح سروسز ہی فراہم کرنا ہے تو سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن مظفرآباد ریجن میں اپنی انٹرنیٹ سروس کو کیوں نہیں بہتر بناتا؟
متعلقہ آئی ٹی پارک جن سے متعلقہ طلباء ہی مستفید ہونگے اگر واقعی میں فری ہے تو مظفرآباد آرمی اپنی اراضی پر کسی جگہ کیوں نا ایسے ادارے کا قیام عمل میں نہیں لاتے؟ تاکے تمام طرح کے طلبہ مستعفی ہوں؟
آج یونیورسٹی کی ایک بلڈنگ کو دیا گیا ہے کل آہستہ آہستہ تمام یونیورسٹی پر کنٹرول حاصل ہو گا. گیٹ پر باوردی اہلکار ہو گا. باوردی اہلکار حضرات کا رویہ عوام کے ساتھ کیسا ہے اسکا اندازہ سی ایم ایچ مظفرآباد ہسپتال کے گیٹ پر سے ہی پتہ چل جاتا ہے جبکہ متعلقہ پارک جو کے نوجوانوں کے لئے ہے کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں حالات کشیدہ ہو سکتے ہیں اسکا زمہ دار کون ہو گا.۔
یونیورسٹی کے ساتھ متعلقہ گراؤنڈ جو کے واحد گراؤنڈ ہے جہاں نوجوان کھیلتے ہیں کل کو سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اسے بھی بند کر دیا جائے گا اور مظفرآباد میں کھیلنے کے لئے نہیں بلکہ چرس ہی پینے کے لئے کوئی دریا کنارے جگہ بچے گی.
اگر عوام اور لوگ یہ سمجھتے ہیں کے یونیورسٹی آف آزاد کشمیر کے ساتھ متذکرہ بالا حشر نہیں ہو گا تو آئیے ہم اپکو مظفرآباد شہر کی ایسی مثالیں دیتے ہیں جہاں پر اس قبضہ مافیا نے اپنے جھنڈے گاڑ کے وہ جگہ فتح کی ہیں.
1.. سب سے پہلے دومیل پل کے نیچے پارک ایم ڈی اے نے بنایا وہ ملٹری نے اپنی فیملیز کے لئے پارک میں تبدیل کر دیا دیا.۔
2.. محترم منظور گیلانی کے گھر کے ساتھ میونسپل کارپوریشن کا گراونڈ آرمڈ فورسز نے اپنی فیملیز کی واک کیے لیے مختص کرتے ہوئے بند کر دیا اور اپکو بتاتے چلیں کے اسی گراونڈ میں سہیلی سرکار کا میلہ بھی لگا کرتا تھا اور اب گراؤنڈ بند ہونے کی وجہ سے میلہ دربار ہی کی قلیل جگہ پر ہو رہا ہے۔
3.. اوپر متذکرہ بالا اس گراونڈ کے ساتھ وہاں ایک چھوٹا گراونڈ تھا اس پر آرمی نے سی ایس ڈی سٹور بنا دیا.
4.. نیلم پبلک سکول گوجرہ کا گراونڈ بھی آرمی نے چاردیواری لگا کر بند کر لیا اور اب گوجرہ کے عوام اپنے جنازے روڈ پر پڑھانے لے جاتے ہیں.
5..مظفرآباد عسکری بینک کے سامنے 400 کنال رقبہ جو دریا کے ساتھ تھا اس کو جانے والی روڈ کو بند کرکے اس رقبہ کو بھی آرمی والوں کے بچوں کے لیے گھوڑوں کا اصطبل بنا دیا ڈالا.۔
.آج کل نیلم پارک سامنے والے اڈے(ٹاہلی منڈی) کے ساتھ جہاں دریا پر آج کل ملبہ ڈالا جا رہا ہے اور منڈی وغیرہ لگائی جاتی ہے وہاں بھی 70 کنال رقبہ پر ملٹری کہ گاڑیوں کی ورکشاپ بن رہی ہے جہاں سے کل کلاں شاید ملٹری سروس بھی چلے گی.
آرمی جونیئر کا گراونڈ بھی اور زمین بھی میونسپل کارپوریشن کی ملکیت تھی جس کو بند کرکے روڈ والی طرف 20 دکانیں بنا لی گئی ہیں.
چہلہ بانڈی میں مقامی لوگوں کیے لیے پہلے دریا پر جانے اور سپلائی گراؤنڈ والے رستے بند کیے گے پھر قلعہ پلیٹ کے سامنے والا سارا رقبہ تحویل میں لے لیا گیا وہاں نیچے 3 یا 4 گراونڈََز اور ریت کے بیلے ہیں جہاں گرمیوں میں لوگ جاتے تھے دریا کے کنارے بیٹھتے تھے سیاح حضرات وہاں جاتے تھے مگر اب دفاع کی خاطر سب بند ہے کیونکہ سامنے سلطان مظفر خان کا ٹوٹا پھوٹا قلعہ ہے اور کہیں سلطان کی بدروح وہاں سے تیروں سے حملہ نا کر دے.
.پولٹری فارم والی زمین پلیٹ پر بھی چاردیواری لگا کر اس کو بند کر لیا گیا تھا۔
. اور اب پہلے یونیورسٹی کی بلڈنگ اور پھر یونیورسٹی کا رقبہ بھی سمجھ لیں
. سی ایم ایچ بھی آرمی کے پاس
..ماچس فیکٹری بھی آرمی والوں کے پاس
..پیرچناسی ٹاپ کا سیاحتی مقام بھی آرمی کے پاس۔
. گوجرہ قلعہ بھی آرمی پاس۔ جو کے ایک انٹیروگیشن سنٹر بھی ہے۔
اب کہنے کو مظفرآبادیوں کے پاس اپنے زاتی گھر بچتے ہیں جن کا مستقبل بھی مجھے خطرے میں لگتا ہے اگر بروقت زبان نا کھولیں گے ہم تو ہماری آنے والی نسلیں ہم پر تھوکیں گے،کہ ہمارے آباو اجداد کیوں خاموش تھے اور ہماری قومی شناخت زمین بوس ہو جائے گی۔