گلگت بلتستان کے الیکشن میں بھی ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا، بلاول ،مریم نواز

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

گلگت بلتستان میں بظاہر پی ٹی آئی نے پہلی بار نو سیٹیں حاصل کر لیں جبکہ سات آزاد ارکان بھی جیت گئے۔ پی ٹی آئی حکومت کے مطابق یہ ایک صاف شفاف الیکشن تھا۔

ابتدائی غیرسرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی صرف تین اور مسلم لیگ نواز دو سیٹیں حاصل کر پائی۔ گذشتہ انتخابات میں مسلم لیگ کو وہاں دو تہائی اکثریت ملی تھی۔

گلگت بلتستان کے انتخابات میں عام طور پر وہی پارٹی الیکشن جیتتی ہے جس کی وفاق میں حکومت ہوتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ خطے کا اسلام آباد پر معاشی و سیاسی دآرومدار بتایا جاتا ہے۔

اس الیکشن میں پیپلز پارٹی کے چیئرمیں بلاول بھٹو زرداری نے کئی ہفتوں تک بھرپور انتخابی مہم چلائی۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ، انتخابات میں ”گلگت بلتستان کا مینڈیٹ چوری کیا گیا، گلگت کی عوام غیرت مند ہے۔ انہوں نے ڈوگرا راج سے خود آزادی لی۔ یہ کسی کو اجازت نہیں دیں گے کہ ان کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا جائے۔“

انہوں نے پیر کو گلگت میں اپنے کارکنوں کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جہاں جہاں مینڈٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا، وہاں احتجاج ہوگا۔

بلاول بھٹو نے خبردار کیا کہ ”سیاسی لوگوں کو دیوار سے نہ لگائیں، ایسا نہ ہو کہ لوگ ہمارے ہاتھ سے بھی نکل جائیں۔“

ادھر مسلم لیگ نواز کی مرکزی رہنما مریم نواز نے بھی حکومت پر دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا، ”گلگت بلتستان میں پی ٹی آئی کا نہ پہلے کوئی وجود تھا نہ اب ہے۔اس کو بھیک میں ملنے والی چند سیٹیں دھونس، دھاندلی، مسلم لیگ ن سےتوڑے گئے امیدواروں اور سلیکٹرز کی مرہون منت ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ حکومت کے لیے وفاداریاں تبدیل کرانے اور بدترین دھاندلی کے باوجود سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کرنا شرمناک شکست ہے۔“

Share This Article
Leave a Comment