اسیر تنویر احمد کی بھوک ہڑتال جاری۔ کیس کی تفصیلی رپورٹ

0
716

پاکستانی زیر قبضہ کشمیر میں قید اسیر تنویر احمد کے کیس کی تفصیلی رپورٹ

بیورو سنگر نے راولاکوٹ سے بتایا کہ29 اکتوبر کو آزاد کشمیر کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کا دو رکنی پینل تنویر احمد جھنڈا کیس کی سماعت کے موقع پر کسی بھی قسم کے فیصلہ کا اعلان یا ڈائریکشن دیے بغیر واپس مظفرآباد چلا گیا تھا۔

اس سلسلے میں تنویر کے وکیل سے بھی ہمیں کوئی ٹھوس جواب نہ ملا، میرپور سپریم کورٹ میں جا کر ریکارڈ چیک کیا گیاتو پتہ چلا کہ 29 اکتوبر کی کاروائی کا نہ تو کوئی ریکارڈ ہے اور نہ ہی اگلی سماعت کے لیے کوئی تاریخ مقرر ہے۔ ذرائع نے بیور چیف سنگر کو بتایا کہ انھیں کہا گیا ہے کہ آج گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے کے خلاف ہڑتال ہے مگر ہڑتال نظر نہ ائی۔ جو محدود سٹاف کورٹ روم میں موجود تھا اس کی مدد سے 29 اکتوبر کی کاروائی ٹائپ کروا کر مظفرآباد رابطہ کر کے سپریم کورٹ کے پینل کی میرپور واپسی کا پتہ کیا تو بتایا گیا کہ 15 نومبر کو پینل کی واپسی ہے لہذا اگلی سماعت کے لیے قریب ترین تاریخ 18 نومبر ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ تنویر احمد جو تین دن سے بھوک ہڑتال پر تھے انکی صحت خراب ہو گئی ہے۔ تنویر احمد کی اہلیہ کی طرف سے ڈپٹی کمشنر صاحب کو تنویر احمد کے میڈیکل چیک اپ کی درخواست دی جنہوں نے ترجیح بنیادوں پر ایس ایس پی صاحب کو فوری پولیس نفری مہیا کرنے کی سفارش کی اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو لکھا کہ وہ تنویر کو ہسپتال میں معائنہ کے لیے پولیس کی تحویل میں دیں۔
تنویر احمد کا مکمل میڈیکل چیک اپ کرنے کے بعد واپس جیل پہنچا دیا گیا۔ تنویر احمد اب بھی بھوک ہڑتال پر ہیں۔ سب دوست اور عزیز و اقارب انہیں بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر وہ ابھی تک نہیں مانے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے عدلیہ کا احترام کر کے اس پر اعتماد کیا مگر عدلیہ خود اپنا احترام کرتی ہوئی نظر نہیں آ رہی۔ تنویر احمد کا کہنا ہے کہ اگر انہیں سیاسی بنیادوں پر قید رکھا جارہا یے تو پھر انہیں سیاسی سہولیات بھی دی جائیں۔

واضح رہے کہ تنویر احمد نے پاکستانی جھنڈے کو اپنے ملک سے نکلنے کا پہلے قانونی مطالبہ کی مگر قانوی کاروائی نہ ہونے کے بعد انہوں نے خود اسے اُتار دیا تھا جو عالمی قوانین کی روح سے جائز ہے۔مگر قابض پاکستانی ریاست اسے کے دہشت گرد خفیہ ادارے تنویر احمد کی رہائی کے خلاف ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here