بلوچستان میں سیکورٹی اداروں کی کارروائی سے 4 دہشتگرد ہلاک ہوگئے،ضیا لانگو

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستانی میڈیا کے مطابق بلوچستان کے علاقے دشت میں انسداد دہشتگردی فورس کی کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 4 دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق انسداد دہشتگردی فورس نے مستونگ کے علاقے دشت میں دہشتگردوں کی موجودگی پر ایک مکان پر چھاپہ مارا جس پر دہشت گردوں کی جانب سے فائرنگ شروع کر دی گئی۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق فائرنگ کے مقام پر دھماکوں کی آواز بھی سنائی دی گئی جب کہ فائرنگ کے تبادلے میں 2 اہلکار زخمی ہوئے اور سی ٹی ڈی اہلکاروں اور دہشتگردوں میں فائرنگ کے تبادلے میں 4 افراد ہلاک ہو گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے ٹھکانے سے خودکش جیکٹیں، دستی بم، اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا ہے جب کہ ہلاک دہشتگردوں کی لاشیں شناخت کے لیے سول اسپتال منتقل کردی گئی ہیں۔

کٹھ پتلی وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو نے کہا ہے کہ دشت میں سکیورٹی اداروں کی کارروائی میں کالعدم تنظیم کا اہم کمانڈر 3 ساتھیوں سمیت مارا گیا ہے اور ان خطرات کی وجہ سے ہی پی ڈی ایم سے جلسہ منسوخ کرنے کے لیے کہا۔

وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا لانگو نے سی ٹی ڈی حکام کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ دشت میں فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہونے والا کالعدم تنظیم کا کمانڈر عبدالکریم کرد، آئی جی پولیس ہاو¿س، سمنگلی ائیر بیس اور خالد ائیر بیس سمیت کوئٹہ میں دہشتگردی کی بڑی وارداتوں میں ملوث تھا۔

انہوں نے بتایا کہ یہ اب تک افغانستان سے 30 خود کش حملہ آور بلوچستان لا چکا تھا اور بلوچستان حکومت نے اس کے سر کی قیمت 20 لاکھ روپے رکھی تھی۔

ضیا لانگو نے کہا کہ بلوچستان میں سکیورٹی اداروں نے بہت بڑی کامیابی حاصل کرکے صوبے میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنادیا ہے، ہمیں پکڑے گئے کچھ دہشتگردوں سے دہشتگردی کے تھریٹ ملے تھے اور ان خطرات کے پیشِ نظر ہم نے پی ڈی ایم سے جلسہ منسوخ کرنے کے لیے کہا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہماری درخواست کے باوجود پی ڈی ایم جلسہ کرے گی تو ہم انہیں مکمل سکیورٹی فراہم کریں گے، پی ڈی ایم جلسے کے لیے 4 ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہوں گے۔

دوسری جانب نیوز کانفرنس میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایہ نے بتایا کہ ہمارے پاس دشت میں 6 دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع تھی، کارروائی میں 4 مارے گئے ہیں جب کہ دیگر 2 دہشتگردوں کی تلاش کے لیے آپریشن جاری ہے۔

اعتزاز گورایہ نے بتایا کہ ہلاک دہشتگردوں سے 2 خودکش جیکٹس، دستی بم، اسلحہ اور موبائل فون برآمد ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت و فوجی اسٹیبلشمنٹ کی دشت کارروائی محض ایک ڈرامہ ہوگی تاکہ پی ڈی ایم جلسے کو روک سکے اور اس کارروائی میں جن افراد کی بھلی چڑھائی گئی ہے ہوسکتا ہے کہ وہ لاپتہ افراد ہوں کیونکہ فورسز پہلے بھی ایسے متعدد ڈراموں میں لاپتہ افراد کو استعمال کر چکے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment