فوج پولنگ اسٹیشن کا نہیں بلکہ ووٹرز کا تحفظ کرے ،بلاول بھٹو

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جلسوں میں فوج سے متعلق منفی زبان استعمال کرنا ٹھیک نہیں ہے۔

بلاول بھٹو کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے پہلے جلسے میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید پر بھی سنگین الزامات لگائے تھے۔

کراچی میں باغ جناح میں پیپلز پارٹی کے جلسے کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم چاہتے ہیں کہ مکمل اور حقیقی جمہوریت ملے، مجھے افسوس ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کا جلسہ ہو یا اپوزیشن کا، موجودہ یا ریٹائرڈ جرنیلوں کا نام لینے سے دفاعی اداروں کا وقار مجروح ہوتا ہے’۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم اسٹیبلشمنٹ کا نام لیتے ہیں تو ہم جانتے ہیں کہ یہ صرف آج کا نہیں بلکہ تاریخ کا حصہ ہے، ہمیں آمریت ملی یا کنٹرولڈ جمہوریت۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کہا کہ ‘ہم ایسا نہیں چاہتے کہ عدلیہ یا ملٹری، بیوروکریسی پر الزام لگے لیکن کیا کریں جب فوج کو پولنگ اسٹیشن پر کھڑا کردیا جائے تو الزامات لگتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘وزیر اعظم عمران خان ہر تقریر میں کہتے ہیں کہ یہ والا میرے ساتھ ہے، وہ والا میرے ساتھ ہے، ہم سب ایک پیج پر ہیں’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘عمران خان خود دفاعی اداروں کو سیاسی حربے کے طور استعمال کرتے ہیں تو پھر ادارتی وقار کو دھچکا لگتا ہے’۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ ہر ادارہ اپنا کام کرے اور فوج پولنگ اسٹیشن کا نہیں بلکہ ووٹرز کا تحفظ کرے جیسے وہ دلیری سے سرحد پر دشمنوں کا مقابلہ کرتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ اس کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے سیاستدانوں، عدلیہ، پارلیمنٹ اور فوج کو بھی اپنا اپنا کام کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے پی ڈی ایم تشکیل پاچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کیا کٹھ پتلی راج قبول ہے یا ہمیں جمہوریت چاہیے کیونکہ کٹھ پتلی وزیر اعظم ملک نہیں چلا سکتا۔

ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ‘وزیراعظم عمران خان عدلیہ کو ایسے چلانا چاہتے ہیں جیسے وہ اپنی ٹائیگر فورس کو چلاتے ہیں’۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک کے عوام عدلیہ کی طرف انصاف کی امید کے ساتھ دیکھتے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment