روسی نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے آرمینیا کے وزیر اعظم نے کہا تھا کہ نیگورنو۔کاراباخ میں ترک افواج کے ساتھ پاکستانی افواج بھی حصہ لے رہی ہیں۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے پاس اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت ہے؟ تو نکول پشنیان نے کہا کہ ‘کچھ اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے خصوصی دستے بھی ان کے خلاف دشمنی میں ملوث ہیں’۔
خیال رہے کہ بھارتی نشریاتی ادارے ‘ٹائمز ناو¿ انڈیا’ اور کچھ دیگر میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے متنازع علاقے میں آذربائیجان اور ترکی کی فوج کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے پاکستانی فوج کے دستے روانہ کیے ہیں۔

ان رپورٹس میں اس علاقے سے تعلق رکھنے والے 2 افراد کے مابین ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیا گیا تھا جس میں پاکستانی فوج کی موجودگی کا ذکر تھا۔
تاہم پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے بیان جاری کرتے ہوئے ان رپورٹس کو بے بنیاد اور قیاس آرائی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی رپورٹس اور اطلاعات انتہائی غیر ذمہ دارانہ ہیں۔