ساؤتھ بلوچستان،ترقی کی تقسیم؟

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

اداریہ
ماہنامہ سنگر اکتوبر ایڈیشن

اس امر میں کوئی شک نہیں ہے کہ بلوچستان اپنے وسیع جغرافیے اور انتہائی قیمتی وبے پناہ قدرتی وسائل کے اعتبارسے پاکستان کے مجموعی جغرافیے کانصف اور سب سے امیر ترین خطہ ہے، اور یہ امر بھی شکوک و شہات سے بالا تر ہے کہ سماجی و معاشی ترقی اور خوشحالی کے لحاظ سے یہ سب سے پسماندہ اور غریب ترین علاقوں میں شامل ہے،حالانکہ اپنی وسیع و طویل کھلی سمندری حدود اور جغرافیائی طور پر خطے کی سیاست و معیشت میں بلوچستان تاریخی اعتبار سے ہمیشہ فیصلہ کن حیثیت کا حامل بھی رہا ہے،لیکن سات دہائیاں گزرنے کے باوجود یہاں کے عوام دیگر سماجی ترقی اور ضروریات کی فراہمی تو کہاں پینے کے پانی جیسی بنیادی انسانی ضرورت سے محروم رہے ہیں،تاہم قابض کے ہر دورحکومت میں بلوچستان کی پسماندگی اور احساس محرومی کو ختم کرنے کے دعوے توکئے جاتے رہے لیکن عملی طور پر بلوچستان ترقی کا گہوارہ نہ بن سکا۔ بلوچستان کے سیاسی وسماجی حلقے اس کی بنیادی وجہ قابض حکمرانوں کے بلوچستان کی طرف نو آبادیاتی رویے کو قرار دیتے ہیں،جس کے تحت ان کی ترجیحات میں بلوچستان کی سرزمین اور اس کے وسائل سے حاصل فوائد تو رہے مگر بلوچ قوم کو بنیادی انسانی ضروریات وجدید سہولیات کی فراہمی اور ان کی حقیقی ترقی اور خوشحالی محض کاغذی وبجٹ اعداد شمار تک محدود رہی، جس سے بلوچ سماج میں حکمران قوتوں کی ان امتیازی پالیسیوں سے بیزاری ومایوسی اور بے چینی و اشتعال میں مسلسل اضافہ ہوا، جس کا اظہار مختلف ادوار میں بلوچ قوم کی پر امن جمہوری اور مسلح ہر دوصورتوں میں سخت مزاحمت واحتجاج کی صورت میں دیکھنے کو ملا۔

اس سلسلے میں بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اب جبکہ گزشتہ دو دہائیوں سے دنیا اور خطے میں سیاسی ومعاشی حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں، اور امریکہ،چین،روس سمیت مختلف علاقائی و عالمی طاقتوں کے درمیان دنیا اور خطے کے وسائل، اقتصادیات اور اہم ترین علاقوں پر غلبے کیلئے رسہ کشی کا عمل تیز ہوا ہے، خاص طور پر چین کے بحیثیت عالمی طاقت کے طور پر ابھار اور گواد رتا کا شغر سی پیک سمیت بیلٹ اینڈروڈ منصوبے کے تحت ایشیاء اور دنیا کی معیشت،سیاست اور معاشروں پر اپنے غلبے اور اثر ورسوخ کو تیزی سے بڑھانے کا عمل متاثرہ اور متعلقہ خطوں کی اہمیت کو پہلے سے کئی گنا بڑھا رہا ہے،ایسی کیفیت میں مقبوضہ بلوچستان نہ صرف پاکستانی حکمران بالا دست قوتوں کیلئے بلکہ چین سمیت تمام علاقوئی وعالمی طاقتوں کیلئے سونے کی چڑیا سے بڑھ کر ہیرے کی کان کی حیثیت اختیار کر گیا ہے،جس پر تسلط وغلبے کی خواہش ہر سامراجی طاقت کے دل ودماغ کو بے چین کئے ہوئے نظر آتی ہے۔


بعض تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان کی اسی بے پناہ اہمیت کے پیش نظر یہاں قابض حکمرانوں کی جانب سے اپنے سب سے قریبی اتحادی اور پشت بان چین کو ترقی کے نام پر بلوچستان میں اپنے پاؤں پھیلا تے اور جمانے کی کھلی جھوٹ دے دی گئی ہے، اور دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس سے بلوچستان کی پسماندگی،غربت وافلاس اور سیاسی وسماجی محرومی کا مکمل خاتمہ اور بلوچ سماج ترقی و خوشحالی کی جنت نظر بن جائے گا،اگر چہ بلوچ سیاسی وعوامی حلقے ان ترقی کے حکمران دعوؤں کے پس پشت کا رفر ما مفادات ومقاصد کو بلوچ سماج کو ترقی وخوشحالی کی بجائے انہیں اقلیت میں بدلنے اور محکومی ومحرومی میں مزید شدت لانے کا باعث قرار دیتے ہوئے اپنے خدشات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔لہذا اب جبکہ ترقی کے ان دعوؤں کی عملی شکل وصورت سامنے آرہی ہے تو اس سے بلوچ سماج میں بے چینی،وسوسوں اور اپنے قومی وجود،سرزمیں اور ساحل ووسائل کے تحفظ اور اس کی موجود ہ انتظامی وجغرافیائی یک جہتی کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات مزید تقویت پارہے ہیں، اس سلسلے میں بلوچستان کے سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کے پورے بلوچستان کو ترقی دینے کے دعوے بدل کراب ایک مخصوص پروجیکٹ کے سیکورٹی تک محدود ہیں، جس کو ساؤتھ یا جنوبی بلوچستان کا نام دیا گیا ہے،جس میں سی پیک کی گذرگاہ، گوادر سمیت تمام ساحلی اور اس سے ملحقہ علا قے بشمول مکمل مکران اور آواران شامل ہیں۔


رپورٹس کے مطابق اس علاقے میں شاہراؤں اور میگا پراجیکٹس کا وسیع جال بچھایا جائیگا،جس کے تحفظ کیلئے ساؤتھ بلوچستان کے نام سے سیکیورٹی فورسز کا الگ انتظامی ایریا بھی بنایا گیا ہے،تاکہ یہاں بلوچ مزاحمتی قوتوں کے حملوں اور مقامی آبادی کے ممکنہ کسی بھی احتجاجی ردعمل سے ان بڑ ے منصوبوں کو محفوظ بنایا جاسکے،اس سلسلے میں کہا جارہا ہے کہ اس فورس میں بھرتی کیلئے پنجاب،پشتون علاقوں سے کم عمر نوجوانوں کو نرم شرائط رکھتے ہوئے میٹرک سے کم کرکے مڈل پاس کردی گئی ہیں۔ان دونوں اقدامات کو بلوچ قوم پرست و دیگر سیاسی وعوامی حلقوں میں بلوچستان کی ایک نئی تقسیم کے تناظر میں دیکھتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔ان حلقوں کے مطابق حکمرانوں کی ترقی کے دعوؤں پر یہاں کی مقامی آبادی کے خدشات درست ثابت ہورہے ہیں، کیونکہ نئی ترقیاتی تقسیم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان میں سی پیک سمیت میگا پر اجیکٹس کا قیام نوآبادیاتی مقاصدکا حامل ہے،جس کا بلوچ سماج کی حقیقی ترقی وخوشحالی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے،بلکہ یہ بلوچ قوم کو صرف اپنی ہی سرزمین سے بے دخل کرنے اور انہیں اقلیت میں بدلنے کے نتائج کا حامل ہے، اس کے ساتھ یہ بلوچستان کی قومی سیاسی اور جغرافیائی یک جہتی کو تقسیم کرنے کے مقاصد اور ارادوں کو بھی ظاہر کرتا ہے،اس صورتحال کو ترقی کا نو آبادیاتی طررز قرار دیتے ہوئے بعض بلوچ قوم پر ست حلقے بلوچستان کے مسلے کا حل قابض کی موجودہ کالونیل طرز ترقی نہیں بلکہ بلوچ قوم کے سیاسی ومعاشی حق حاکمیت و حق ملکیت کے حصول کو قرار دیتے ہیں،تاکہ بلوچ قوم اپنی ضروریات اور مر ضی وخواہشات کے مطابق جدید ترقی وخوشحالی کی ایسی راہ پر گامزن ہوسکے جس کی منصوبہ بندی اور باگ ڈور اس کے اپنے ہاتھ میں ہو۔ جسکا کا حل آزاد بلوچ ریاست کے قیام سے ممکن ہے،آزادی پسندوں کو اس حوالے قومی آگاہی میں تیزی لانے کے ساتھ قابض ریاست کی اس طرح کے ہتھکنڈوں کو مہذب اقوام اور عالمی اداروں کے سامنے منظر عام پر لانا چائیے۔

Share This Article
Leave a Comment