آئی ایس آئی سربراہ نے مجھے دھمکی دی کہ استعفیٰ دو، ورنہ مارشل لاء لگے گا ،نواز شریف

ایڈمن
ایڈمن
9 Min Read

پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے اسٹیبلشمینٹ پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ موجودہ حکومت کو لانے والے اب پچھتا رہے ہیں۔ نواز شریف نے اپنے بھائی شہباز شریف کی گرفتاری کے تناظر میں حکومت اور احتساب کے عمل کو ایک مرتبہ پھر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

نواز شریف پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ نواز شریف کے اس خطاب سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ نے بدھ کو ہی العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں انھیں اشتہاری قرار دینے سے متعلق کارروائی کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

عدالت نے اس کیس میں آئندہ سماعت پر برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کے اہلکار راو¿ عبدالمنان کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرنے کا حکم دیا ہے۔

پارٹی کے اجلاس سے خطاب میں نواز شریف نے ملکی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جسے لائے ہیں اس کا ذہن خالی ہے، پچھتا تو رہے ہوں گے، آپ لائے، آپ کو ہی جواب دینا ہوگا۔ یہ بندہ (عمران خان) تو قصوروار ہے ہی لیکن لانے والے اصل قصور وار ہیں، اس کا جواب بھی انھیں ہی دینا ہو گا۔‘

اپنے بھائی شہباز شریف کی گرفتاری پر انھوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ‘گرفتار تو عاصم سلیم باجوہ کو ہونا چاہیے تھا لیکن گرفتار شہباز شریف کو کر لیا گیا۔ عاصم سلیم باجوہ نے اربوں روپے کیسے بنا لیے؟ اس کا حساب کسی نے نہیں پوچھا؟’

پاکستان میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ ن کے سربراہ شہباز شریف منی لانڈرنگ ریفرنس میں گرفتاری کے بعد 14 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ہیں۔

نواز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ’عاصم سلیم باجوہ کو کلین چٹ دے دی گئی، جس طرح ثاقب نثار نے بنی گالہ کو دے دی تھی۔‘

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سنہ 2018 میں وزیر اعظم عمران خان کی اسلام آباد کے مضافات میں بنی گالہ کے مقام پر نجی رہائش گاہ کو جرمانہ یا فیس ادا کرکے باضابطہ بنانے کا حکم دیا تھا لیکن باقی کئی علاقوں میں غیرقانونی تعمیرات کو فوراً گرانے کا حکم جاری کیا تھگ۔

دوسری جانب امریکہ میں مقیم پاکستانی صحافی احمد نورانی نے حال ہی میں اپنی ایک خبر میں باجوہ خاندان کے مالی مفادات کے بارے میں الزامات عائد کیے تھے۔ لیفٹیننٹ جرنل ریٹائرڈ عاصم باجوہ وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات ہونے کے ساتھ ساتھ پاک چین اقتصادی راہداری کے سربراہ بھی ہیں اور انھوں نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی تھی اور تفصیلی پریس ریلیز میں خود پر لگائے گئے الزامات کا تفصیلی جواب دیا تھا۔

ملک میں عدلیہ کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’عدالتوں پر دباو¿ ڈال کر مرضی کے فیصلے لیے جاتے ہیں؟ کیا ہم ایسے ہی یہ سب چلنے دیں؟ اس سے بڑی اور کیا بدقسمتی ہو گی کہ عدالتوں سے مرضی کے فیصلے لیے جائیں۔‘

حکومت کی جانب سے پارٹی قائدین پر بنائے جانے والے مقدمات پر بات کرتے ہوئے ا±نھوں نے کہا کہ ’ہمارے بچوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے، تاریخ میں ایسا سیاہ رویہ کبھی روا نہیں رکھا گیا۔ شہباز شریف نے بے مثال جرات وبہادری اور استقلال کا مظاہرہ کیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے ’ہمارے بیانیے کو تقویت دینے میں کردار ادا کیا۔ اپنے بھائی پر بہت فخر ہے جس نے وفاداری اور نظریاتی وابستگی کی مثال قائم کی۔‘

انھوں نے ملک میں سیاسی حالات پر بات کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر الیکشن میں مبینہ دھاندلی کی شکایت بھی کی۔

فوج کے ملکی سیاست میں کردار پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرتی تو مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان کا کیا مطلب ہے؟ کیا مولانا عبدالغفور حیدری کے بیان کی کوئی تردید ہوئی؟ اس بیان کا کیا مطلب ہے؟‘

ان کا کہنا تھا کہ سابقہ ڈی جی آئی ایس آئی ظہیرالاسلام نے جو کیا سب کو معلوم ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’ظہیرالاسلام نے کہا کہ نواز شریف استعفیٰ دیں، یہ دھرنوں کے دوران کی بات ہے۔ آدھی رات کو مجھے پیغام ملا کہ اگر استعفی نہ دیا تو مارشل لا بھی لگ سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ استعفی نہیں دوں گا جو کرنا ہے کر لو۔‘

ملک میں جمہوریت پر بات کرتے ہوئے انھوں نے پارٹی اراکین سے سوال کیا کہ ’جس پارلیمنٹ کے آپ رکن ہیں وہ کتنی خود مختار ہے، مجھے لوگوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس پارلیمنٹ کو کوئی اور چلا رہا ہے، دوسرے لوگ پارلیمنٹ میں آ کر بتاتے ہیں کہ آج ایجنڈا کیا ہو گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بڑی سوچنے والی بات ہے، یہ تو پارلیمنٹ پر سمجھوتا کیا ہوا ہے، ظلم، زیادتیوں کے خلاف کھڑے ہونے کا قوم نے فیصلہ کر لیا تو تبدیلی برسوں میں نہیں چند مہینوں اور ہفتوں میں آئے گی۔‘

نواز شریف کا کہنا تھا کہ آج سے وہ روزانہ کی بنیاد پر پارٹی کو دستیاب ہوں گے اور پارٹی جو فرض سونپے گی وہ ادا کریں گے۔

مسلم لیگ ن لیگ کے سی ای سی اجلاس کا مقصد حکومت کے خلاف مہنگائی اور بے روزگاری سمیت دیگر عوامی مسائل پر احتجاج کا لائحہ عمل تشکیل دینا تھا۔ اس حوالے سے نواز شریف نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے دور حکومت سے متعلق مختلف دعوے کیے۔

نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں شروع کیے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ‘سکھر حیدرآباد موٹر وے کا ایک حصہ رہ گیا ہے، اگر دورانیہ مکمل ہونے دیا جاتا تو صورتحال آج کہیں مزید بہتر ہوتی۔’

ان کا کہنا تھا کہ ’چار سال کی مدت میں رکاوٹوں کے باوجود بھی ہم نے بھرپور کامیابیاں حاصل کیں۔ دھرنوں کے باوجود ہم نے ترقیاتی کاموں کو مکمل کیا۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت 5.8 فیصد پر گروتھ ریٹ چھوڑ کر گئے تھے جو آج منفی ہو چکا ہے۔

ملک میں مہنگائی اور عوام کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان کے عوام ہمارے دور میں سکھ کی زندگی گزار رہے تھے، سستی اشیاءلوگوں کو دستیاب تھیں، مہنگائی کا مسئلہ حل ہوگیا تھا، لیکن آج عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے، بجلی، گیس کے بل ان پر بم بن کر گر رہے ہیں۔’

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں 22 کروڑ عوام کے لیے جدوجہد کرنا ہے کیونکہ عوام کی مشکلات اور دکھوں میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے‘۔

’عوام بجلی اور گیس کا بل دینے کے قابل نہیں رہے، دو وقت کی روٹی امتحان بن گئی ہے۔ لوگوں کی سفید پوشی کا جنازہ نکال دیا گیا ہے، بچوں کی سکول کی فیس ادا کرنے کے قابل نہیں، دوائیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ جان بچانے والی ادویات بھی عوام کی رسائی سے باہر ہوچکی ہیں‘۔

Share This Article
Leave a Comment