قومی تحریک کی جنگ آزادی میں کئی ناموار شخصیات نے عظیم قربانیاں دیکر تاریخ انسانیت کی کتابوں میں جگہ بنائی،جنہیں نسل درنسل فراموش نہیں کیا جا سکتا۔بلوچ قومی تحریک آزادی کی حالیہ جاری جنگ آزادی میں کئی عظیم شخصیات کی خدمات نے تاریخ رقم کی اور وہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ کے ساتھ قومی رہبر کے طور پرجانے جاتے ہیں۔ جن میں سر فہرست بلوچ قومی تحریک کے عظیم لیڈر قومی گوریلہ راہشون بی ایل ایف کے ہائی کمان ڈاکٹر اللہ نزر بلوچ ہیں۔
جس نے قربانی اورشہادتوں کی فلسفہ کو اپنے گھرانے سے شروع کرکے تحریک میں اعلیٰ مقام پھایا۔
آپ نے بھائیوں،بھتیجوں،بھانجوں سمیت خاندان کے دیگر 60 سے ستر افراد کی شہادتوں کو سہہ کر قومی انقلاب کی آزادی کے جہد کو روح بخش کر قومی رہنما کا شرف حاصل کیا۔نہ جانے اور کتنی قربانیاں آپ کے اپنے گھرانے سے آنا باقی ہیں۔
ہاں بحیثیت لیڈر ہر بلوچ فرزند کی قربانی آپکی قربانی ہے،چائے اس کا تعلق کسی بھی آزادی پسند تنظیم سے ہو۔
ٓٓ آج میں شہدائے مشکے شہیدسکندر جان، شہیدمسلم جان، شہید لیاقت جان اور شہید سعداللہ جان کو ان کی بہادری اور مادر گلزمین پر دیوانگی اورمحبت پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے،شہداء کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کرتاہوں، جس خاندان کے بیشمار فرزندوں نے مادر وطن کی دفاع کرتے ہوئے پاکستانی دہشتگرد فوج اوراْن کے پالتو ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکاروں سے جوان مردی کے ساتھ لڑتے ہوئے جام شھادت نوش فرمایا ۔
قومی تحریک میں ایسی مثالیں پڑھنے اور سننے کی شرف اکثر راقم کو حاصل رہا،مگر موجودہ بلوچ قومی تحریک آزادی میں کئی ایسے واقعات میرے آنکھوں کے سامنے ظہورپزیرہوئے ہیں،کہ عام بلوچ فرزندوں کیساتھ مادر وطن پر دیوانہ وار جدوجھد میں شھادت کا رتبہ بلوچ قومی لیڈروں اور قاہدین کے گھرانے بھی فیضیاب ہوئے۔
شہید غلام محمد بلوچ کا قول آج بھی میری کانوں میں گھونج رہا ہے کہ جب ہم دوسرے شہیدو ں کو جزباتی الفاظ کے ساتھ ان کی شھادت کی داستانیں سنا کر فخریہ انداز میں بیان کرتے ہیں۔تو وہی عمل وکردار خود کیوں نہ کریں۔تاکہ تاریخ بھی ہمیں وہی شرف بخشے۔
سچ کہا تھا شہید نے تاریخ شخصیات کی محتاج نہیں بلکہ تاریخ کردار اور مثبت عمل اور انقلابی رویہ کو اپنے سینے میں محفوظ مقام عطا کرتا ہے۔
شہید غلام محمد بلوچ کے قول کو میں فخرسے محسوس کررہا ہوں جس فلسفہ کو شھید نے بلوچ قوم میں اشکار کیا،جس کا تسلسل ڈاکٹر اللہ نزر سے لیکر استاد اسلم بلوچ بابو قادو مری تک آج دنیا اور بلوچ قوم دیکھ رہی ہے۔
جب کسی قوم کی لیڈر شپ قربانی کے فلسفہ کو اپنے گھر سے شروع کرئے تو اس قوم کی مستقبل روشی سی ہمکنار ہوجاتا ہے، ایسے قوموں کو قبضہ گیر ریاستیں طویل عرصے تک غلام نہیں رکھ سکتی۔بشرطیکہ ہم اسی فلسفہ مثبت رویہ کرداروعمل کو ایمانداری سے نبھا کر اپنے ذاتی انفرادی خواہشات آرا م و آسائیشوں سے زیادہ قومی مقصد اور تنظیمی وگوریلہ اصولوں کو بالاتر سمجھ کر منفی سوچ کو ختم کریں۔
ٓ ٓآزادی کی تحریکوں کیلئے اولیں شرط مثبت رویوں اچھے اور باعمل کردارکا ہونا ہوتا ہے جو انقلاب کو اپنی منزل تک پہنچا پھائے گا۔ورنہ منفی رویہ وکرداروعمل انقلابی شخص کے ساتھ ساتھ تحریک کو آہستہ آہستہ کمزور کر دیتا ہے، ۔
آج ہمیں اپنے شہیدوں کی مقدس لہو سے عہد کرنا ہوگا کہ ہم انقلابی اور تنظیمی دائرے میں رہ کر گوریلہ اصولوں کے ساتھ اپنی جدوجھد آزادی کی جانب ایمانداری مثبت کرداروعمل اوراچھے رویوں کیساتھ قدم ملاکر منزل آزادی کی جہدجاری رکھیں گے۔تاکہ شہداء کی فلسفہ قربانی کو پائے تکمیل تک پہنچا کر تاریخ اور آنے والے نسلوں کے سامنے سرخ روح ہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لکھاری بلوچ نیشنل موؤمنٹ کا سنٹرل کمیٹی ممبر ہے۔