پاکستانی مقبوضہ کشمیر: گرفتارصحافی و محقق تنویر احمد پھانسی سیل میں شفٹ،حالت تشویشناک

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

پاکستانی فورسز کے ہاتھوں گرفتار صحافی ومحقق کو سزا کے بغیر میر پور سنٹرل جیل میں شفٹ کرنے کے ساتھ ان کو پھانسی سیل میں رکھا گیا ہے۔

بیوروچیف سنگر کا مقبوضہ کشمیر سے خصوصی رپورٹ

مقبوضہ کشمیر کے معروف صحافی ومحقق تنویر احمد کو انکے ایک اورساتھی سفیر کشمیری کے ساتھ پاکستانی فورسز نے21 اگست کو مقبول بٹ اسکوائر سے گرفتار کیا تھا۔

تنویر احمد پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی آزادی وخود مختاری کے لیے سرگرم ہیں اور انھیں اسی پاداش میں پابند سلاسل کر دیا گیا ہے۔

تنویر احمد کے اہلیہ فریزم نے بتایا کہ

ؔؔ’ ’ میں منگل کے روز تنویر احمد صاحب کے ساتھ سینٹرل جیل میرپور ملاقات کے لیے گئی جہاں انکی حالت دیکھ کر حیران رہ گئی۔ تنویر احمد کو 21 اگست سے 4 ستمبر تک پولیس سٹیشن میں رکھا گیا تھا اور 4 ستمبر کو جیل منتقل کیا گیا تھا۔ 11 دنوں میں انکی حالت ایسے ہو گئی ہے، جیسے وہ 11 سالوں سے جیل میں ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ انکو ڈیتھ سیل میں رکھا گیا جہاں پھانسی کی سزا پانے والوں کو اس وقت اس سیل میں رکھا جاتا ہے جب پھانسی دینے کا حتمی فیصلہ کر لیا جاتا ہے۔ اس سیل میں کیڑے مکوڑے ہیں جن کے کاٹنے سے ان کے ہاتھوں اور جسم کے باقی حصوں پر نشان پڑ چکے ہیں۔ یہ حال ہے ہماری آزادی کے بیس کیمپ کا۔ مجھے پورا یقین ہو گیا ہے کہ میرے شوہر کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا لیا گیا ہے۔ اس لیے میری اور میری کمسن بیٹی اور بیٹے کی دنیا بھر کے انسانی حقوق پر یقین رکھنے والوں اور محب وطن ہموطنوں سے اپیل ہے کہ تنویر احمد کی زندگی بچائی جائے اور اس نام نہاد بیس کیمپ اور اس کی قیادت پر جتنی لعنت بھیج سکتے ہیں بھیجیں “

تنویر احمد کے حوالے سے ان کے اہلیہ نے بتایا کہ انہوں نے اپنے مختصر پیغام میں آزادی پسندوں سے کہا ہے کہ انہوں نے جھنڈا اتارنے کے میرے اقدام کو تو بہت پسند کیا مگر میری گرفتاری کے بعد لگنے والے جھنڈوں کے نیچے کھڑے ہو کر تقریریں کر نے کے علاوہ انہوں نے اور کیا کیا؟

واضح رہے کہ تنویر احمد کو مقامی انتظامیہ نے اس وقت گرفتار کیا جب انہوں نے مقبول بٹ اسکوائر پہ غیر ریاستی پرچم لہرائے یعنی پاکستانی جھنڈے کو اْتار دیا تھا۔

اس سے قبل صحافی تنویر احمد نے 52 گھنٹے بھوک ہڑتال کی اس کے بعد انتظامیہ نے تسلیم کیا کہ یہاں غیر ملکی یعنی پاکستانی جھنڈالگانا درست نہیں، مقامی انتظامیہ نے خود کہا کہ دو دن میں انتظامیہ خود پاکستانی پرچم اتار لے گی۔لیکن تین دن گزرنے کے بعد بھی انتظامیہ نے پرچم نہیں اتارا جس کے بعد 21 اگست کو تنویر احمد نے خود ہی غیر ریاستی پرچم اتار لیا۔ غیر ریاستی جھنڈا اتارنے کی پاداش میں نامور صحافی و محقق تنویر احمد کوشدید تشدد کا نشانہ بناکر گرفتار کر لیا گیا۔

پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے ہائی کورٹ نے انکی ضمانت12 ستمبر کو مسترد کر دی تھی۔ مقامی انتظامیہ کے ایک شخص نے بتایا کہ تنویر احمد کو جس سیل میں رکھا گیا ہے اور صر ف پھانسی کی سزا پانے والوں کے لیے ہے اور اس سیل کی حالت انسانی سوچ کی تصور سے باہر ہے۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے بتایا کہ تنویر احمد کو جیل میں مار دینے کی پلاننگ ہے،اور اس عمل میں پاکستانی خفیہ ادارہ آئی ایس آئی کا باقاعدہ ہاتھ ہے اور اب تک کئی دفعہ یہ نامعلوم افراد جیل آ چکے ہیں۔

واضح رہے کہ کشمیری نوجوانوں میں پاکستانی قبضہ کو لے کر سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی لہر میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق اگرتنویر احمد کو جیل میں کچھ ہو جاتا ہے تو یہ عمل پاکستانی قبضہ گیریت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے،اس لیے کہ اب کشمیری نوجوانوں میں شعور آ چکی ہے اور شاید وہ اس عمل پر خاموش نہ رہیں۔

ایک کشمیری طالب علم نے بیورو چیف سنگر کو بتایا کہ اب پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں مزاحمت ناگزیر ہو گیا ہے۔پاکستان ہمارے لوگوں کو ہندوستان کے خلاف اُکساتا ہے اور خود اسلام کے نام پر ہم پر قابض ہے۔انہوں نے کہا ہم ریاستی چالوں کو سمجھ چکے ہیں،اب بیداری سیاست کے ساتھ طاقت کا مظاہرہ ضروری ہے۔دشمن ہتھیار بند ہے تمام عالمی قوانین سے عاری ہے اس لیے اب وقت ہے کہ کشمیری نوجوان گولی کا جواب گولی سے دیں۔

ایک طالب علم رہنما نے کہا کہ اگر تنویر احمد کو کچھ ہوا تو سرخ لہو پاکستانی جھنڈا تو معمولی بات ہے پاکستان کو بھی بہا کر لے جائے گا۔

ویسے بلوچستان میں پاکستانی فوج کی بنگلہ دیش طرز کی بربریت کے بعد جو مسلح جدوجہد شروع ہوگئی ہے، اب خیبر پختونخوا اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں بھی پاکستانی فوج کی انسانی حقوق پر قدغن اور بربریت کیخلاف مسلح جہدوجہد کی سوچ زور پکڑ رہی ہے۔اور اگر پاکستانی فوج کی بنگلہ دیش طرز کی بربریت اسی طرح زوروں سے جاری رہی تو جس طرح بلوچستان پاکستان کیلئے ایک بارود کی ڈھیر میں تبدیل ہوگئی ہے بالکل اسی طرح خیبر پختونخوا اور پاکستانی مقبوضہ کشمیر بھی پاکستان کیلئے ایٹم بم ثابت ہوسکتی ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment