بین الافغان مذاکرات آج سے قطر میں شروع ہونگے

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

طویل انتظار کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بین الافغان امن مذاکرات ہفتے سے شروع ہو رہے ہیں۔ دونوں نے دوحہ میں ہونے والے ان مذاکرات کی تصدیق بھی کی ہے۔

قطر کی وزارتِ خارجہ اور طالبان نے جمعرات کو اپنے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ بین الافغان امن مذاکرات کے لیے طالبان اور افغان حکومت کی مذاکراتی ٹیموں کے درمیان پہلی مرتبہ براہِ راست بات چیت ہو گی۔

طالبان کے دوحہ آفس کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے جمعرات کو اپنی ایک ٹوئٹ میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان افغان امن معاہدے کے تحت اگلے مرحلے کے لیے بین الافغان امن مذاکرات پر طالبان تیار ہیں۔

ترجمان کے مطابق مذاکرات کا پہلا دور ہفتے سے شروع ہو گا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ طالبان مذاکرات کا عمل احسن طریقے سے انجام دینے کے خواہش مند ہیں تاکہ افغانستان میں دیرپا امن اور خالص اسلامی روایات کے مطابق اسلامی نظام لایا جائے۔

طالبان کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ان کے باقی ماندہ چھ قیدی رہائی کے بعد خصوصی طیارے کے ذریعے دوحہ پہنچ گئے ہیں۔

طالبان کی 21 رکنی مذاکراتی ٹیم کی قیادت مولوی عبدالحکیم کر رہے ہیں۔ ا±نہیں طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ کا قابلِ اعتماد ساتھی تصور کیا جاتا ہے۔ وہ طالبان کے زیرِ اثر علاقوں میں قائم خود ساختہ عدالتی نظام کے سربراہ بھی ہیں۔

طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں رہبری شوریٰ کے 13 ارکان بھی شامل ہیں۔

افغانستان میں قومی مفاہمت کی اعلٰی کونسل کے سربراہ اپنی ٹیم کے ہمراہ قطر پہنچ گئے۔ افغان حکومت کے وفد کی سربراہی محمد معصوم استنکزئی کریں گے۔ افغان وفد میں خواتین بھی شامل ہیں جب کہ طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں کوئی خاتون موجود نہیں۔

طالبان کی جانب سے بین الافغان مذاکرات کے اعلان کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو مذاکراتی عمل میں شرکت کے لیے قطر کا دورہ کریں گے۔

دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان صادق صدیقی نے بھی اپنے ایک ٹویٹ میں تصدیق کی ہے کہ افغان وفد مذاکرات کے لیے دوحہ کا دورہ کرے گا اور صدر غنی مذاکراتی ٹیم کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں۔

ادھر امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے ایک بیان میں بین الافغان مذاکرات کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کے عوام ایک عرصے سے جنگوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے۔ افغانستان سے طویل جنگ اور خون خرابے کے خاتمے کے لیے یہ ایک تاریخی موقع ہے۔

خیال رہے کہ یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب نومبر میں امریکہ میں صدارتی انتخابات ہونا ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی پر زور دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان رواں برس فروری کے آخر میں دوحہ میں امن معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت پہلے مرحلے میں طالبان اور افغان قیدیوں کے تبادلے کے بعد بین الافغان امن مذاکرات ہونا ہیں۔

اس معاہدے کا مقصد افغانستان میں طویل جنگ کا خاتمہ ہے۔ معاہدے میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کا مکمل انخلا بھی شامل ہے۔ امریکہ پہلے ہی افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد 13 ہزار سے گھٹا کر 8600 کر چکا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment