بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے حالات انتہائی نازک تصور کیے جاتے ہیں اور ان حالات میں سب سے انتہائی سنجیدہ معاملہ بلوچ لاپتا افراد کا ہے۔ بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملے میں کمی آنی چاہیے تھی لیکن یہ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ اس غیر یقینی صورتِ حال سے آنکھیں چرانا ممکن نہیں ہے۔ جبری گمشدگی کے معاملے کی حکومتی سطح پر بھی توثیق کی جا چکی ہے، جس کی واضح مثال "کمیشن آف انکوائری” کا قیام ہے۔ لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس کمیشن کے قیام کے بعد بھی اس حوالے سے نہ کوئی خاطر خواہ بہتری آئی ہے اور نہ ہی اس تشویش ناک معاملے میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔ حکومتی ادارے ایک جانب یہ دعوے کرتے نہیں تھکتے کہ اس طرح کا کوئی کیس موجود نہیں اور اگر تھا بھی تو آئندہ ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوگا، لیکن دوسری جانب سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ کی جبری گمشدگی کی توثیق کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں کی گئی ہے۔
سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ کو یکم نومبر 2021ء کو بلوچستان یونیورسٹی کے ہاسٹل کے احاطے سے جبری طور پر اٹھا کر لاپتا کیا گیا، جس کے بعد جامعہ کے طلبہ کی جانب سے ان کی فوری اور باحفاظت رہائی کے لیے ایک پرامن دھرنا دیا گیا۔ اس کے فوراً بعد حکومتی ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی، جس نے طلبہ کو اس یقین دہانی کے ساتھ دھرنا ختم کروایا کہ 30 دن کے اندر انہیں یا تو رہا کر دیا جائے گا یا پھر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ اس معاملے کو اب پانچ سال کا طویل عرصہ بیت چکا ہے، لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ بلوچستان یونیورسٹی کے شعبہ ‘پاکستان اسٹڈیز’ کے طالب علم تھے، جنہیں یونیورسٹی کے احاطے سے لاپتا کیا گیا۔ تب سے لے کر آج تک ان کے بارے میں کوئی معلومات میسر نہیں ہے۔ ان کی جبری گمشدگی نے ان کے خاندانوں سمیت ان کے ساتھی طلبہ کو شدید ذہنی اذیت اور کرب میں مبتلا کر رکھا ہے۔
حکومتی ارکان نے ایک طرف یہ وعدہ کر کے یقین دہانی کرائی تھی کہ ان طلبہ کو جلد از جلد رہا کروایا جائے گا، لیکن دوسری طرف صورتِ حال یہ ہے کہ نہ تو سہیل اور فصیح کی رہائی عمل میں آئی اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی ٹھوس قدم اٹھایا گیا۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومتی اداروں، عدالتوں اور انکوائری کمیشن سے بار بار رجوع کیا، لیکن ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات بلوچ طلبہ کو ذہنی اذیت اور غیر یقینی کی صورتِ حال میں دھکیلنے کا باعث بن رہے ہیں۔ سیاسی جبر، جبری گمشدگیاں اور طاقت کا بےجا استعمال کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی قانونی، آئینی یا اخلاقی جواز بنتا ہے۔ ہم اپنے اس بیان کی وساطت سے حکومتی اداروں اور اربابِ اختیار سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان معاملات پر سنجیدگی سے توجہ دیتے ہوئے کوئی خاطر خواہ حل نکالیں اور سہیل بلوچ اور فصیح بلوچ کی باحفاظت بازیابی کو فوری طور پر یقینی بنائیں۔