شادی کور سے جبری نقل مکانی اور ریاستی جبر: بی وائی سی کی حقائق پر مبنی تفصیلی رپورٹ جاری

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے ہیومن رائٹس ڈیپارٹمنٹ نے بلوچستان کے ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کے زرعی علاقے شادی کور میں پاکستانی فوج کی جانب سے کی جانے والی جبری نقل مکانی، انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور ریاستی جبر پر مبنی ایک جامع فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ شائع کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق رواں سال جولائی 2026ء کے وسط میں شادی کور کی تقریباً پوری آبادی (لگ بھگ 5,000 افراد) اپنے آبائی گھروں اور زرعی زمینوں کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئی۔ پاکستانی فوج نے علاقے میں آ کر مکینوں کو انتباہ جاری کیا تھا کہ اگر وہ وہاں رہے تو ان کے گھر جلا دیے جائیں گے، جس کے بعد خوف و ہراس کی فضا میں عوام نے پسنی، اورماڑہ اور تربت سمیت دیگر قریبی شہروں کا رخ کیا جہاں وہ اب خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ جبری نقل مکانی کسی ایک دن کا واقعہ نہیں بلکہ مئی سے جولائی 2026ء کے دوران جاری رہنے والے منظم دباؤ کا نتیجہ تھی۔

5 مئی 2026ء کو سکیورٹی فورسز اور ملٹری انٹیلی جنس نے شادی کور کے 85 سے 100 کے قریب مردوں کو حراست میں لیا، جنہیں دھوپ میں لٹاکر شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ ان میں سے تقریباً 40 افراد کو شادی کور ڈیم پر قائم آرمی کیمپ منتقل کرکے جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔

مئی اور جون کے مہینوں میں شادی کور کو جانے والے راستوں اور گبڈی چیک پوسٹ پر خوراک اور اشیائے ضروریہ کی رسد مکمل طور پر بند رکھی گئی۔

رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ نومبر 2025ء میں لاپتہ کیے جانے والے زرکول کے رہائشی سردل ولد شیر خان کو حراست کے دوران قتل کیا گیا، اور عید الاضحی کے تیسرے دن (30 مئی 2026ء) ان کی مسخ شدہ لاش پسنی کے قریب مکران کوسٹل ہائی وے سے برآمد ہوئی۔

بی وائی سی کی رپورٹ کے مطابق شادی کور کا یہ واقعہ تنہا نہیں ہے، بلکہ بلوچستان کے دیگر حصوں میں بھی جبری نقل مکانی کو بطورِ حربہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگست اور ستمبر 2026ء کے دوران مستونگ میں باغات کے مالکان کو جبری انخلا کی دھمکیاں دی گئیں، قلات کے علاقوں (شور پارد، خلیلی، خلکتی، شوکی اور گزگ) کے مکینوں کو گھر خالی کرنے کے احکامات دیے گئے، جبکہ نوشکی، کیچ (تیموران) اور گوادر کے مکران کوریڈور میں بھی اسی نوعیت کے جبری انخلا اور فوجی آپریشنز کے ذریعے ہزاروں افراد کو بے گھر کیا گیا ہے۔

ہیومن رائٹس ڈیپارٹمنٹ نے اپنی رپورٹ میں درج ذیل مطالبات پیش کیے ہیں:
شادی کور اور دیگر تمام علاقوں سے جبری انخلا کے احکامات فوری طور پر واپس لیے جائیں۔
بے گھر ہونے والے خاندانوں کو باوقار اور محفوظ طریقے سے اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دی جائے اور ان کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔
شادی کور اور دیگر علاقوں میں جاری چیک پوسٹوں کی ناکہ بندی ختم کی جائے تاکہ خوراک اور ادویات کی ترسیل بحال ہو سکے۔
5 مئی 2026ء کے بعد سے حراست میں لیے گئے تمام افراد کو رہا یا عدالت میں پیش کیا جائے اور لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔

Share This Article