بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) نے اپنے فدائی یونٹ ’سدو آپریشنل بٹالین‘ (SOB) کی جند-ندر (فدائی) بلقیس دیدگ عرف الماس بلوچ کی آخری وصیت، وداعی ویڈیو پیغام اور محاذِ جنگ (گوادر آپریشن) سے جاری کردہ بیان پر مشتمل تفصیلات شائع کر دی ہیں۔ چار منٹ 42 سیکنڈ کی اس ویڈیو اور میدانِ جنگ کے مناظر میں الماس بلوچ کے دو مختلف اور اہم پیغامات شامل ہیں۔
ویڈیو کے ابتدائی حصے میں الماس بلوچ کو بی ایل ایف کے آفیشل یونیفارم میں ملبوس، سدو آپریشنل بٹالین کا بیج لگائے اور پہاڑی سلسلے میں بھاری ہتھیار سے نشانہ بازی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بلوچ قوم اور اپنے اہل خانہ کے نام بلوچی زبان میں جاری اس پیغام کا آغاز انہوں نے "مقدس مادرِ وطن” ( بلوچستان)کے نام سے کیا۔
انہوں نے کہا کہ جب آپ یہ پیغام سن رہے ہوں گے تومیں جسمانی طور پر آپ کے درمیان موجود نہیں ہوں گی،لیکن آپ غلامی کی لعنت کے خلاف بیدار ہوں تاکہ آنے والی نسلیں اس عذاب سے بچ سکیں۔ دشمن کے پاس چین جیسے اتحادی ہوں یا وہ کتنا ہی طاقتور ہو، ہماری قربانی کا جذبہ اس سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
انہوں نے صنف سے بالاتر ہو کر قومی ذمہ داری کے تحت اس جدوجہد کا حصہ بننے کی اپیل کی اور عزم ظاہر کیا کہ قربانیوں کے تسلسل سے آزاد پرچم بلوچستان کے ہر کونے میں لہرائے گا۔
انہوں نے کہا کہ مجھے پختہ یقین ہے کہ میرے بعد بھی آپ اس مقصد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اسی راستے پر چلیں گے جس پر میں چلی ہوں.
اپنے اہل خانہ سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "میرے پاس گھر میں زندگی گزارنے کا آپشن تھا، لیکن آپ کی تعلیمات اور میرے ضمیر نے مظالم پر خاموشی گوارا نہیں کی۔ میں شارل اور ماں یاسمین (جس نے اپنے بیٹے ریحان کو قربان کیا) کی قربانیوں کی پیروکار ہوں۔ میری شہادت پر ماتم کرنے کے بجائے مجھے انقلابی گیتوں سے یاد رکھا جائے۔”
ویڈیو کے دوسرے حصے میں فدائی الماس بلوچ کو محاذِ جنگ کے عین وسط میں اپنے دیگر ساتھیوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔ شدید گولیوں اور دھماکوں کی گونج کے درمیان، پاکستانی فوج کے کیمپ پر16 گھنٹوں سے زائد کا وقت گزرنے کے بعد بھی سرمچاروں کا قبضہ برقرار تھا۔
گولیوں کی آوازوں کے دوران ہاتھ اٹھا کر ‘وکٹری’ کا نشان بناتے ہوئے اور زخمی حالت میں اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ "دشمن فوج عملی طور پر شکست سے دوچار ہو کر چھپ کر فائرنگ کر رہی ہے۔ انہوں نے تین مرتبہ حملے کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا اور دشمن اہلکاروں کی لاشیں ہمارے سامنے پڑی ہیں۔”
انہوں نے بتایا کہ شدید جھڑپوں اور فائرنگ کے تبادلے کے دوران ان کے ہاتھ، چہرے اور پاؤں پر زخم آئے ہیں اور ہاتھ سوج چکا ہے، لیکن فائرنگ اور دھماکوں کے اس شور میں بھی ان کا عزم غیر متزلزل ہے اور وہ آخری دم تک کامیابی کے ساتھ جنگ جاری رکھنے پر قائم ہیں۔
یاد رہے کہ 22 اکتوبر کو گوادر شہر میں واقع پاکستانی فوجی کیمپ پر بی ایل ایف کی خصوصی عسکری یونٹس نے ہمہ گیر اور مربوط حملہ کیا۔ 20 گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والے اس آپریشن میں 80 سے زائد عسکری و انٹیلی جنس اہلکار ہلاک، متعدد بکتر بند گاڑیاں، مرکزی بیرکس اور جاسوسی دفاتر تباہ کر دیے گئے، جبکہ فضا میں 4 کواڈ کاپٹر اور 2 سرویلنس ڈرون مار گرائے گئے۔
بی ایل ایف نے اس تاریخی اور عظیم الشان آپریشن کو گزشتہ 8 سالوں سے تنظیم کے ساتھ نظریاتی اور متحرک طور پر وابستہ رہنے والی گوریلا کمانڈر الماس بلوچ کے نام سے منسوب کیا تھا۔