پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں نے بلوچستان، اسلام آباد اور بہاولپور سے مزید 3 بلوچ طلباء جبری لاپتہ کردیئے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) اور ملٹری انٹیلی جنس (MI) کی جانب سے تین مختلف واقعات میں مزید بلوچ طلباء کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کی تصدیق کی ہے۔
پہلے واقعے میں کوئٹہ کے رہائشی 23 سالہ طالب علم حزب اللہ لانگو ولد عبدالغفور لانگو کو 12 جولائی 2026ء کی دوپہر ڈھائی بجے ایئرپورٹ روڈ پر کلی عالم خان کے مقام سے سی ٹی ڈی نے حراست میں لیا۔
دوسرے واقعے میں ڈیرہ غازی خان کے رہائشی 15 سالہ طالب علم وقاص بلوچ ولد احسان اللہ کو 30 اکتوبر 2026ء کی صبح 11 بجے اسلام آباد کے سنتوراس مال سے سی ٹی ڈی کے اہلکاروں نے لاپتہ کر دیا۔
جب کہ تیسرے واقعے میں ڈیرہ غازی خان کے پیر عادل کے رہائشی 26 سالہ طالب علم ثقلین بلوچ ولد سید غلام رضا شاہ کو 29 اکتوبر 2026ء کی دوپہر 3 بجے بہاولپور میں حاصل پور روڈ پر جاپان ٹاؤن کے سامنے سے سی ٹی ڈی اور ملٹری انٹیلی جنس کے مشترکہ اہلکاروں نے حراست میں لے کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اپنے سوشل میڈیا مہم #EndEnforcedDisappearances کے تحت ان واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور وفاقی دارالحکومت سمیت پنجاب اور بلوچستان کے تعلیمی و شہری مراکز سے بلوچ طلباء کی اس نوعیت کی جبری گمشدگیوں کو انسانی حقوق اور بنیادی آئینی حقوق کی سنگین ورزی قرار دیا ہے۔ تنظیم نے لاپتہ کیے گئے تمام طلباء کی فوری اور باحفاظت بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔