بی ایل ایف کا پاکستانی فوج و ڈیتھ اسکواڈز کے ساتھ جھڑپوں میں شہید سرمچاروں کو سرخ سلام

ایڈمن
ایڈمن
23 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں پاکستانی فوج اور ریاستی ڈیتھ اسکواڈز کے ساتھ مختلف محاذوں پر جھڑپوں میں جامِ شہادت نوش کرنے والے بی ایل ایف کے سرمچاروں کو سرخ سلام پیش کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق بلوچستان کی آزادی اور حقِ خودارادیت کی خاطر قابض پاکستانی فوج اور اس کے پروردہ غدار ڈیتھ اسکواڈ کارندوں کے ساتھ سوراب، پسنی، ماشکیل اور دشت کے محاذوں پر جھڑپوں میں بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرنے والے بلوچستان لبریشن فرنٹ کے مخلص، نڈر اور فکری سرمچاروں کیپٹن شہید یحییٰ عرف استاد خالد جان، شہید آریس عرف عمر جان، شہید حفیظ عرف کاروان، شہید جاوید عرف گلاب، شہید عبدالخالق عرف نوتک، شہید ساجد عرف مہران، شہید حمید عرف بزرگ اور شہید اکرم عرف گہرام کو گراں قدر الفاظ میں خراجِ عقیدت اور سرخ سلام پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی آزادی کی یہ کٹھن جنگ یقیناً ہم سے قربانیوں کی متقاضی ہے، اور ہمارے سرمچار دشمن کے استعماری عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے ہمیشہ صفِ اول میں رہے ہیں۔ غاصب ریاست کی طرف سے بلوچ قوم کو مغلوب رکھنے، بلوچستان کے وسائل کی لوٹ مار،اور عسکری و سیاسی محاذ پر گرفت بڑھانے کے لیے جتنے بھی ہتھکنڈے استعمال کیے جائیں، ہمارے جانثار سرمچار ان ہتھکنڈوں کو ناکام بنانے کیلئے لڑتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آزادی کا یہ کارواں کسی بھی صورت رکنے والا نہیں ہے۔ سوراب، پسنی، ماشکیل اور دیگر محاذوں پر جامِ شہادت نوش کرنے والے ان بہادر شہداء کا انقلابی سفر اور عسکری خدمات بلوچ قوم اور نوجوانوں کے لیے ہمیشہ راہِ مشعل رہیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ شہید کیپٹن یحییٰ عرف استاد خالد جان نے لڑکپن ہی میں بلوچ قومی رہنما شہید ڈاکٹر منان جان کے ساتھ سیاسی دیوانوں اور تحریکی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لینا شروع کیا۔ سیاسی شعور اور فکری بالیدگی حاصل کرنے کے بعد سال 2011 میں آپ نے بلوچستان لبریشن فرنٹ میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔ ابتدائی برسوں میں آپ نے شہری نیٹ ورک کے ساتھ منسلک ہو کر انتہائی رازداری، جرات اور مہارت کے ساتھ تنظیمی فرائض سرانجام دیے، اور شہروں میں خفیہ تنظیمی کارروائیوں کی کمانڈ بھی سنبھالی۔

میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ استاد خالد جان تنظیمی ڈسپلن کے انتہائی سخت پابند، نظریاتی سوچ سے سرشار، بے پناہ برداشت کے مالک اور جفاکش سرمچار تھے۔ آپ بارود، مائننگ اور بھاری اسلحے کے ماہر استاد تھے۔ آپ بلوچ گوریلا جنگ کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہمیشہ نئی عسکری تکنیک متعارف کراتے اور کارروائیوں میں ان کا بھرپور استعمال کرتے۔ جب بھی اور جہاں بھی تنظیم کو آپ کی ضرورت پڑی، آپ نے ہمیشہ صفِ اول میں رہ کر تنظیمی سرگرمیوں میں عملی طور پر حصہ لیا۔

بیان میں کہا گیا کہ تنظیمی ہدایت کے مطابق 2015 میں آپ خاران کے محاذ پر روانہ ہوئے اور خاران، شور، نوشکی، خضدار اور قلات میں دشمن کے خلاف کئی کامیاب معرکات میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی دوران 2015 میں آپ کے بڑے بھائی، شہید حافظ سرفراز بلوچ کو اجتماعی سزا کے تحت پاکستانی فوج اور انٹیلیجنس اداروں نے کراچی کے ایک مدرسے سے جبری طور پر اغوا کیا، اور 2016 میں انہیں دیگر چار اغوا شدہ بلوچوں کے ساتھ مشکے میں فرضی انکاؤنٹر میں شہید کر کے ان کی لاشیں پھینک دی گئیں۔ تاہم، دشمن کے یہ غیر انسانی اور سفاکانہ ہتھکنڈے آپ کے عزم و حوصلے کو متزلزل نہ کر سکے۔ آپ کے خاندانی پس منظر میں شہداء کی ایک طویل اور درخشندہ فہرست موجود ہے، جن میں شہید نورالحق، شہید ڈاکٹر منان، شہید عبدالرحیم ولد عطا محمد عرف زمیندار، شہید ساجد عمر اور شہید ماجد عمر جیسے عظیم فرزندانِ وطن شامل ہیں۔ آپ نے ان تمام صدمات اور تکلیفوں کو اپنے اندر جذب کر کے ایک انقلابی چٹان کی طرح دشمن کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی۔

تنظیم کے مطابق شہید کیپٹن یحییٰ نے مشکے، آواران، کولواہ، جھاؤ، گریشہ، نال، اورناچ، خضدار، زہری، زامران، بلیدہ، خاران، شور، نوشکی، رخشان، واشک، سوراب اور قلات سمیت بلوچستان کے طول و عرض کے کٹھن اور دشوار گزار محاذوں پر دشمن کے خلاف معرکوں میں حصہ لیا۔ آپ نے بی ایل ایف کے تاریخی معرکہ نال شہر آپریشن میں بھی انتہائی کلیدی اور شجاعت پر مبنی کردار ادا کیا۔ آپ دوستوں کے درمیان ہمیشہ خوش مزاج، شفیق اور مہربان رہتے۔ عسکری سفر کے دوران جس معرکے میں بھاری اسلحے کی ضرورت ہوتی، آپ خود اسے اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھتے اور فرنٹ لائن پر آ کر دشمن پر حملہ آور ہوتے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ 07 اکتوبر 2026 کو سوراب کے علاقے گدر میں قابض دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے آپ نے بطور کیپٹن اپنے آخری معرکے میں بھی یہ روایت برقرار رکھا اور خود 82 ایم ایم راکٹ لانچر اور بھاری اسلحے کی ذمہ داری سنبھال کر دشمن پر حملہ کیا۔ معرکے کے دوران 82 ایم ایم راکٹ کا گولہ پھٹنے کے ایک حادثاتی دھماکے کے نتیجے میں آپ نے جامِ شہادت نوش کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ شہید آریس عرف عمر جان نے نومبر 2024 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے بلوچ قومی آزادی کی مسلح جدوجہد میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔ آپ ایک انتہائی مخلص، خوش مزاج، شفیق، دلیر، بے پناہ محنتی اور فرض شناس سرمچار تھے، جو ہمیشہ تنظیمی امور اور گوریلا کارروائیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ پسنی کے تنظیمی نظام کو مضبوط بنانے اور حربی نیٹ ورک کو فعال کرنے کے لیے ساتھیوں نے آپ کی غیر معمولی صلاحیتوں پر اعتماد کرتے ہوئے اہم تنظیمی ذمہ داریاں سپرد کیں، جنہیں آپ نے تادمِ شہادت انتہائی احسن طریقے سے نبھایا۔

ان کا کہنا تھا کہ شہید آریس نے پیدراک، شادیکور، بدوک، کوسٹل ہائی وے، پسنی، شتنگی اور نلینٹ سمیت مکران کے مختلف کٹھن اور دشوار گزار محاذوں پر گوریلا جنگ کے دوران کئی اہم عسکری کارروائیوں اور مشنز میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ ایک انتہائی راست گو، اصول پسند اور بے باک سرمچار تھے، جو ہمیشہ جنگی محاذ پر جانے کے لیے پُرجوش اور ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔ 18 جولائی کو پسنی شہر میں ایک تنظیمی و عسکری مشن کے دوران آپ شدید زخمی ہو گئے تھے، تاہم صحت یاب ہوتے ہی آپ نے پُرعزم انداز میں دوبارہ اپنے محاذ کا رخ کیا اور قومی فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہو گئے۔

بی ایل ایف کا کہنا تھا کہ 07 اکتوبر 2026 کو پسنی کے علاقے ریک پُشت میں گشت کے دوران آپ کا سامنا قابض فوج کے پروردہ ڈیتھ اسکواڈ کے کارندوں سے ہو گیا۔ ڈیتھ اسکواڈ کے ساتھ آمنے سامنے کی اس جھڑپ میں شہید آریس عرف عمر جان نے انتہائی بہادری اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کیا اور جامِ شہادت نوش کر کے بلوچ قومی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔ اس جھڑپ میں ڈیتھ اسکواڈ کے 2 کارندے زخمی ہو گئے جنہیں قابض فوج نے وہاں سے نکالا اور علاج کے لیے کراچی روانہ کیا۔

تنظیم کے مطابق شہید حفیظ عرف کاروان ولد داد محمد سکنہ ہوٹگ ڈل بازار، پسنی نے 17 اکتوبر 2025 کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے بلوچ قومی آزادی کی مسلح اور فکری جدوجہد میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔ آپ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان تھے جنہوں نے گوادر یونیورسٹی سے ایجوکیشن کے شعبے میں بی ایس (BS Education) کی ڈگری مکمل کی تھی۔ عصری علوم کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود آپ نے فرسودہ تعلیمی نظام کے دائرے میں رہنے کے بجائے اپنے علم اور شعور کو مظلوم بلوچ قوم کی آزادی اور قومی بقا کی جنگ کے لیے وقف کرنے کا فیصلہ کیا۔ تعلیم یافتہ ہونے کے ناطے آپ گہری سیاسی سوچ، فکری پختگی اور نظریاتی شعور سے لیس سرمچار تھے۔ آپ کا شمار بی ایل ایف کے ان باشعور کارکنوں میں ہوتا تھا جو جنگی محاذ کے ساتھ ساتھ قومی تحریک کے سیاسی اور فکری تقاضوں کو بخوبی سمجھتے تھے۔ آپ نے پسنی، شادیکور، گورکوپ، کلانچ اور پیدراک کے حساس تزویراتی محاذوں پر نہایت بہادری، تنظیمی ڈسپلن اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ اپنی خدمات سرانجام دیں۔ آپ ایک انتہائی محنتی، جفاکش اور فرض شناس سرمچار تھے جو ہر کٹھن معرکے میں آگے بڑھ کر دشمن کا مقابلہ کرتے تھے۔ 18 اکتوبر 2026 کو چکلی، کلانچ میں قابض فوج کے تشکیل کردہ ڈیتھ اسکواڈ کے ساتھ جھڑپ میں آپ نے جامِ شہادت نوش کر کے تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔

بیان میں کہا گیا کہ شہید جاوید عرف گلاب ولد بوری بلوچ سکنہ گانو کلانچ، پسنی نے 27 اپریل 2025 کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے قومی جنگِ آزادی کا باقاعدہ آغاز کیا۔ آپ نے پہاڑوں میں طویل پیدل سفر کی گوریلا جنگ کی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے مکران کے انتہائی اہم اور تزویراتی خطوں میں جدوجہد کی۔ شہید جاوید نے پسنی، شادیکور، گورکوپ، کلانچ اور پیدراک کے محاذوں پر گوریلا جنگ کے دوران نہایت شجاعت، استقامت اور جفاکشی کے ساتھ اپنی عسکری ذمہ داریاں نبھائیں۔ آپ ایک انتہائی خاموش طبع، محنتی، پکے ارادے کے مالک اور جانثار سرمچار تھے جو نمود و نمائش سے دور رہ کر اپنے فرائض کو فرضِ اولین سمجھتے تھے۔ آپ نے تمام تر نامساعد حالات اور دشمن کی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، اور بالآخر 18 اکتوبر 2026 کو چکلی، کلانچ کے معرکے میں قابض فوج کے پروردہ ڈیتھ اسکواڈ کے خلاف لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔

انہوں نے کہا کہ شہید ساجد عرف مہران نے 9 مارچ 2023 کو بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے باقاعدہ طور پر قومی جنگِ آزادی میں عملی شمولیت اختیار کی۔ تاہم، تنظیمی صفوں میں باقاعدہ نام درج ہونے سے قبل بھی آپ کا قلب و ذہن بلوچ قومی تحریک کے نظریات سے معمور تھا۔ پہاڑی محاذ کے سخت راستوں پر قدم رکھنے سے پہلے آپ نے تقریباً دو سال تک ایک مستعد، مخلص اور انتہائی ہوشیار شہری گوریلا کے طور پر انتہائی نامساعد حالات میں گراں قدر تنظیمی فرائض سرانجام دیے، شہری محاذ کے خطرات کے باوجود آپ نے کمالِ مہارت اور ہوش مندی سے شہری نیٹ ورک کو مضبوط رکھا، لاجسٹک امور سنبھالے اور تنظیم کے پیغامات کو بحفاظت منزل تک پہنچایا۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ شہری محاذ کی ذمہ داریوں کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد جب آپ نے باقاعدہ طور پر پہاڑی محاذ کا رخ کیا، تو تنظیم کی روایت کے مطابق بی ایل ایف کے انتہائی حساس، نڈر اور ہراول دستے قربان یونٹ کا حصہ بنے۔ قربان یونٹ میں کارکن اپنی مرضی سے شامل ہوتے ہیں۔ شہید ساجد نے اپنے فکری و شعوری جذبے کے تحت اس یونٹ کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا اور تمام کٹھن و جان جوکھوں والے فرائض بحسن و خوبی نبھائے۔

انہوں نے کہا کہ آپ بلیدہ، بالگتر، کیلکور، کولواہ، مشکے، جھاؤ، پنجگور، رخشان اور واشک سمیت بلوچستان کے طول و عرض کے تقریباً تمام اہم، دشوار گزار اور فرنٹ لائن محاذوں پر گوریلا جنگ کے معرکوں میں پیش پیش رہے۔ بی ایل ایف کے کئی بڑے اور تاریخی آپریشنز اور معرکوں میں آپ نے فرنٹ لائن پر لڑ کر دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا۔ آپ نے اپنی ذاتی زندگی، آرام اور خوشیوں کو پسِ پشت ڈال کر خود کو مکمل طور پر بی ایل ایف، اس کے تنظیمی اصولوں اور مظلوم بلوچ قوم کی آزادی کے لیے وقف کر رکھا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ دوستوں، ساتھیوں اور ساتھی سرمچاروں کے ساتھ آپ کا اخلاق، شفقت اور رویہ مثالی تھا۔ آپ کی خوش مزاجی سخت ترین محاذوں اور تھکا دینے والے طویل پیدل سفروں میں ساتھیوں کے لیے حوصلے کا باعث بنتی تھی۔ جنگی میدان میں دشمن سے نبردآزما ہونا ہو یا پہاڑوں کی کڑی چٹانوں پر سفر کرنا ہو، شہید ساجد کے چہرے پر کبھی شکن تک نہیں آئی۔ ماشکیل کے معرکے میں بھی آپ نے روایت برقرار رکھی اور قربان یونٹ کے اس صفِ اول کے سرمچار نے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور جامِ شہادت نوش کر کے تاریخ میں امر ہو گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہید عبدالخالق عرف نوتک نے سال 2023 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے بلوچ قومی آزادی کیلئے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔ پہاڑی محاذ کی صعوبتیں جھیلنے سے قبل آپ نے ایک سال تک نہایت رازداری، آہنی عزم اور شاندار پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ شہری نیٹ ورک کے اندر رہتے ہوئے انتہائی اہم تنظیمی و قومی فرائض بحسن و خوبی سرانجام دیے، شہری گوریلا جنگ کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے آپ نے دشمن کے مخبروں اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کے دائرے میں رہتے ہوئے جو تنظیمی جال بُنا، وہ آپ کی فکری پختگی اور فہم کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

تنظیم کے مطابق شہری محاذ کی گراں قدر خدمات کو کامیابی سے نبھانے کے بعد جب آپ پہاڑی محاذ پر منتقل ہوئے، تو پروم، زامران، بالگتر، بلیدہ، پنجگور اور ماشکیل کے کٹھن، دشوار گزار اور تزویراتی محاذ آپ کی شجاعت کے گواہ بن گئے۔ بی ایل ایف کے ہراول دستے قربان یونٹ میں کارکن اپنی مرضی اور بہادری کے جذبے سے شامل ہوتے ہیں، شہید عبدالخالق نے بھی اسی صفِ اول کے یونٹ کا حصہ بن کر گوریلا جنگ کی تاریخ رقم کی۔ آپ نے ہر معرکے میں فرنٹ لائن پر کھڑے ہو کر دشمن کا مقابلہ کیا۔ آپ کی عسکری زندگی محنت، لگن، راتوں کے پہروں، گشت، جفاکشی، اور دشمن کے خلاف تاک لگا کر وار کرنے کی ایسی داستان ہے جو نوجوان سرمچاروں کے لیے عملی درس کی حیثیت رکھتی ہے۔ آپ نے اپنی ذاتی خواہشات، خوابوں اور آرام و آسائش کو تیاگ کر اپنی ذات کو مکمل طور پر بی ایل ایف، اس کے انقلابی تنظیمی اہداف اور مظلوم بلوچ قوم کی آزادی کے لیے وقف کر دیا تھا۔ آپ کا تعلق ایک ایسے نڈر، غیور اور لازوال قربانیاں دینے والے خاندان سے ہے جس نے مادری وطن کی آزادی کے لیے اپنے گھر کا ہر چراغ روشن کر رکھا ہے۔ آپ کے خاندان کے کئی دیگر افراد نے تحریکِ آزادی کی راہ میں اپنے خون کا نذرانہ پیش کر کے تاریخ رقم کی ہے۔ آپ کے سگے بھائی شہید ناصر سنجر عرف رامین، اسی مقدس راہ پر چلتے ہوئے مادرِ وطن کی خاطر قربان ہو چکے ہیں۔ شہید عبدالخالق نے اپنے اس عظیم خاندانی ورثے کو مزید تابناک بناتے ہوئے اپنے خون کی روشنائی سے تحریر کیا۔ دوستوں اور ساتھیوں کے ساتھ آپ کا رویہ ہمیشہ نرم، اخلاق سے بھرپور، اور حوصلہ افزا تھا۔ آپ اپنے ہر ساتھی کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے اور میدانِ جنگ میں ایک ڈھال کی طرح ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہتے۔ ماشکیل کے تزویراتی محاذ پر جب دشمن کے خلاف معرکہ گرم ہوا، تو قربان یونٹ کے اس نڈر سرمچار نے فرنٹ لائن پر دشمن کا بھرپور مقابلہ کیا، عزم و استقامت کی لازوال مثال قائم کی اور جامِ شہادت نوش کر کے تاریخ میں امر ہو گئے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہید حمید عرف بزرگ ولد حاجی حسین سکنہ جان محمد بازار، دشت نے سال 2012 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے باقاعدہ طور پر قومی جنگِ آزادی میں شمولیت اختیار کی۔ تنظیمی شمولیت کے بعد ابتدائی ایک سال تک آپ نے نہایت رازداری، جرات اور مہارت کے ساتھ شہری محاذ پر گراں قدر فرائض سرانجام دیے اور گوادر شہر کے اندر دشمن کے خلاف متعدد مسلح کارروائیوں میں ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ 23 دسمبر 2013 کو بالگتر کے معرکے میں آپ کے چھوٹے بھائی شہید غنی عرف قاسم کی شہادت کے بعد دشمن کے سامنے آپ کے راز افشاں ہو گئے، جس کے باعث آپ کے لیے شہری محاذ پر سرگرم رہنا ممکن نہ رہا۔ حالات کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ نے باقاعدہ پہاڑی محاذ کا رخ کیا اور دڑامب، ساہجی اور دشت کے دشوار گزار خطوں میں مسلسل برسرپیکار رہے۔ 2017 میں قابض ریاست کی جانب سے علاقے میں جبری بے دخلی اور گھروں کو نذرِ آتش کرنے کے سفاکانہ اقدامات کے نتیجے میں آپ کا خاندان ہجرت پر مجبور ہوا اور مہاجرت کی سختی جھیلتا رہا، لیکن اس کے باوجود آپ کے عزم و حوصلے میں ذرہ برابر کمی نہ آئی۔ شہید حمید کا پورا خاندان تحریکِ آزادی کے لیے قربانیوں کی ایک تابناک تاریخ رکھتا ہے۔ آپ کے بھائی سمیت آپ کی معزز خاندان کے کئی دیگر قریب ترین رشتہ دار اس راہِ آزادی میں اپنے خون کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ شہید حمید عرف بزرگ نے 2012 سے لے کر 2025 تک طویل ترین عسکری و نظریاتی سفر طے کیا اور 21 اکتوبر 2025 کو کیچ کے علاقے میں قابض فوج کے ساتھ جھڑپ میں جامِ شہادت نوش کر کے تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے۔

میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ شہید اکرم عرف گہرام ولد دوست محمد سکنہ جان محمد بازار، دشت نے 2012 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کا آغاز کیا اور تنظیمی صفوں میں رہتے ہوئے پوری بہادری اور استقامت کے ساتھ قومی جنگِ آزادی کا علم بلند کیے رکھا۔ آپ نے شہری محاذ کی خفیہ اور انتہائی کٹھن کارروائیوں سے لے کر پہاڑی محاذ کے خطرناک مورچوں تک ہر محاذ پر دشمن کو جانی و مالی نقصان سے دوچار کیا اور آخری سانس تک اپنے نظریے پر فولادی چٹان کی طرح قائم رہے۔

ترجمان نے کہا کہ 2017 میں قابض فوج کی جانب سے کی جانے والی جبری علاقہ بدری اور گھروں کو جلائے جانے کے بعد آپ کے خاندان کو بھی ہجرت کر کے دیارِ غیر میں مہاجرت کی زندگی گزارنا پڑی۔ ان تمام تر سختیوں اور خاندانی آلام کے باوجود شہید اکرم نے اپنے قومی نصب العین اور تنظیمی جدوجہد سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹایا۔

انہوں نے کہا کہ بالآخر، 5 جون 2026 کو تحریکی فرائض کی انجام دہی اور سفر کے دوران ایک ناگہانی روڈ حادثے کے نتیجے میں آپ نے جامِ شہادت نوش کیا۔ شہید اکرم اور شہید حمید آپس میں قریب ترین رشتہ دار تھے، جنہوں نے ایک ہی مٹی، ایک ہی خاندان اور ایک ہی نظریے کی پکار پر اپنی زندگیاں مادرِ وطن کی آزادی کے لیے وقف کر دیں۔

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ اپنے ان تمام شہداء کی لازوال قربانیوں، فکری پختگی اور انقلابی کردار کو گراں قدر الفاظ میں خراج عقیدت اور سلام پیش کرتی ہے۔ شہدائے وطن کا مقدس لہو اور ان کا شاندار عسکری و سیاسی سفر تحریکِ آزادیِ کو منزلِ مقصود آزاد- بلوچستان تک پہنچانے کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

Share This Article