بلوچستان کے ضلع خاران کے علاقے لجے میں پاکستانی فوج کی گاڑی کو دیسی ساختہ بم (IED) حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 8 فوجی اہلکار ہلاک یا زخمی ہو گئے ہیں۔
حملے کے بعد علاقے میں شدید جھڑپیں جاری ہیں جبکہ ایک کواڈ کاپٹر ڈرون کو بھی مار گرائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق پاکستانی فوج کے ڈرون کی جانب سے میزائل حملہ بھی کیا گیا ہے اور علاقے میں فوجی ہیلی کاپٹرز کی پروازیں جاری ہیں۔
دوسری جانب، ایک دوسرے واقعے میں قلعہ عبداللہ کے علاقے تنگ میزئی میں نامعلوم مسلح افراد نے گزشتہ شب ایک ٹھکانے پر حملہ کرکے سابق افغان فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو سابق افغان فوجی ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔
حملہ آور جاتے ہوئے اپنے ساتھ اسلحہ اور گولہ بارود بھی لے گئے۔
اس واقعے کے خلاف مقتولین کے ورثاء اور لواحقین نے سڑکوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے چمن-کوئٹہ ہائی وے کو ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کر دیا ہے۔