بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں شہید سرمچارہاشم کی لازوال قربانی کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ 13 کارروائی میں قابض پاکستانی فوج کے 28 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی کئے جبکہ پولیس سے اسلحہ ضبط، ڈرون سرویلنس کیمرہ اور فوج کی گاڑیاں تباہ کردیئے۔
ترجمان نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے کاڈ اور قربان یونٹس کے سرمچاروں نے 28 اکتوبر کو بلیدہ کے علاقے میناز میں کارروائی کرتے ہوئے میناز بازار میں دو اطراف سے مؤثر ناکہ بندی کرکے گاڑیوں کی اسنیپ چیکنگ کی اور اس کے ساتھ ہی الندور میں قائم قابض فوج کے کیمپ پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے شدید حملے میں نشانہ بنایا، جہاں راکٹ لانچر اور گرنیڈ لانچرز کے متعدد گولے براہِ راست اپنے اہداف پر جا لگے، جس کے نتیجے میں کیمپ میں موجود قابض فوج کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس کارروائی کے دوران کیمپ میں نصب سرویلنس کیمرہ اور ایک کواڈ کاپٹر کو بھی فائرنگ کر کے تباہ کر دیا گیا جبکہ اسنائپر ٹیکٹیکل ٹیم کا دستہ حفاظتی پوزیشن میں موجود رہا۔ اس کارروائی کے دوران دشمن کی کمک کے لیے آنے والے چار گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو بٹ کے مقام پر گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 4 فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ فائرنگ کی زد میں آ کر دشمن کی دو گاڑیاں مکمل طور پر ناکارہ ہو گئیں۔ قابض فوج کے ایک دوسرے دستے نے شہر کے عقبی راستے سے پیش قدمی کی کوشش کی، جس پر کاڈ اور قربان یونٹ کے سرمچاروں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن پر حملہ آوار ہوکر ان کی پیش قدمی کو روک دیا، اس جھڑپ کے دوران دشمن کے مزید 3 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اس معرکے میں قربان یونٹ کے جری سرمچار شہید ہاشم عرف نور بلوچ ولد محمد عمر سکنہ آبسر بُنڈ بازار تربت نے صفِ اول میں لڑتے ہوئے قابض فوج کی پیش قدمی کو کامیابی سے روکے رکھا۔ شہید کی اس بے مثال جرات اور مزاحمت کے نتیجے میں دشمن پسپا ہو کر پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوا جبکہ قابض فوج کی تباہ شدہ گاڑیاں اور لاشیں دیر تک حملے کے مقام پر پڑی رہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہید ہاشم نے 2023 میں بلوچستان لبریشن فرنٹ کے پلیٹ فارم سے جدوجہدِ آزادی کا آغاز کیا تھا۔ ایک سال سے زائد عرصے تک شہری گوریلہ کی حیثیت سے تربت جیسے حساس شہر میں فرائض سرانجام دیتے ہوئے آپ نے دشمن کو جانی و مالی نقصان سے دوچار کیا۔ آپ نے تنظیم کے انٹیلی جنس ادارے میں نہایت فعال کردار ادا کیا اور آپ کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر تنظیم نے کئی اہم مشن کامیابی سے سرانجام دیے۔ 2024 میں تنظیمی فیصلے کے تحت آپ پہاڑی محاذ پر منتقل ہو گئے۔ قابض ریاست نے آپ کو جہدِ آزادی سے دستبردار کروانے کے لیے آپ کے خاندان کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنایا۔ پاکستانی فوج نے آپ کے گھر پر دو مرتبہ گرنیڈز سے حملے کیے، آپ کے بڑے بھائی کو جبری گمشدگی کیا گیا اور آپ کے والدین کو جبراً پریس کانفرنس کرنے پر بھی مجبور کیا لیکن ان تمام ہتھکنڈوں کے باوجود ریاست آپ کو قومی جدوجہد کے راستے سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹانے میں کامیاب نہ سکی، آپ فکری اور عملی طور پر ایک محکم سرمچار تھے اور آخری سانس تک آزادی کے بیرک کو سربلند کئے رکھا۔ آپ کی جدوجہد اور ثابت قدمی ساتھیوں کے لئے مشعل راہ ہوگی۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ آپ ایک انتہائی مخلص اور ایماندار جنگجو تھے جنہوں نے بلوچستان کے مختلف علاقوں بشمول تربت، زامران، بالگتر، پنجگور، پروم اور ہوشاب میں قومی فریضہ سرانجام دیا۔ آپ نے بی ایل ایف اور براس (بلوچ راجی آجوئی سنگر) کے کئی اہم عسکری معرکوں میں فرنٹ لائن فائٹر کی حیثیت سے حصہ لیا۔ پنجگور گوران میں براس کے تحت قابض فوج کے کیمپ پر قبضے کے دوران فرنٹ لائن فائٹر اور بالگتر میں کیمپ پر قبضے کے دوران ایل ایم جی ماسٹر کی حیثیت سے آپ نے ان معرکوں کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ 28 اکتوبر کو بلیدہ کے علاقے میناز میں کاڈ، قربان یونٹ اور اسنائپر ٹیکٹیکل ٹیم کے اس مشترکہ مشن کے دوران شہید ہاشم عرف نور بلوچ نے فرنٹ لائن پر رہ کر قابض فوج سے دو بدو مقابلہ کیا اور اپنے تمام ساتھیوں کو دشمن کے گھیراؤ سے بحفاظت نکال کر شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہو گئے۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ شہید ہاشم عرف نور بلوچ کی اس لازوال قربانی کو عقیدت و احترام کے ساتھ سرخ سلام پیش کرتی ہے اور ان کے مشن کو منزلِ مقصود تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں 31 اکتوبر 2026 کو سرمچاروں نے نوشکی کے علاقے مل، خلق جان بیگ میں پیکٹ پر تعینات اہلکار کو اسنائپر رائفل سے نشانہ بنایا، جو موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ 28 اکتوبر 2026 کو کولواہ کے علاقے بلور میں سرمچاروں نے آپریشن کی غرض سے پیش قدمی کرنے والے قابض پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو گھات لگا کر حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 4 فوجی اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر 2026 کو مستونگ کے علاقے عمر ڈرو کے مقام پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے اس قافلے کو نشانہ بنایا جو علاقے میں جارحیت اور آپریشن کی غرض سے پیش قدمی کر رہا تھا اور پہلے سے گھات لگائے سرمچاروں نے فوجی قافلے میں شامل ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں قابض فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ 25 اکتوبر 2026 کو کیچ کے علاقے تجابان کرکی میں سرمچاروں نے فرنٹیئر کور (ایف سی) کے کیمپ پر بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں قابض فوج کی حفاظتی چوکی میں آگ بھڑک اٹھی اور دشمن کو جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔
تنظیم کے مطابق19 اکتوبر 2026 کو آواران کے علاقے تیرتیج میں آہوری کے مقام پر سڑک کی تعمیر کے لیے سیکیورٹی پر مامور قابض فوج کے اہلکاروں کو سرمچاروں نے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 2 اہلکار ہلاک اور 1 زخمی ہوا۔
بیان میں کہا گیا کہ 18 اکتوبر 2026 کو جھاؤ کے علاقے منڑو میں سرمچاروں نے گھات لگا کر قابض پاکستانی فوج کے قافلے کو نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے پہلے قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا اور اس کے بعد قافلے میں شامل گاڑیوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر قابض فوج کے 5 اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے، جنہیں بعد ازاں قابض فوج نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کیمپ منتقل کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ 16 اکتوبر 2026 کو تمپ کے علاقے کلاہو، جالبار میں سرمچار تنظیمی کام کے سلسلے میں گشت پر تھے کہ راستے میں ان کا سامنا قابض فوج سے ہو گیا، جس پر دونوں جانب سے جھڑپ کا آغاز ہوا، جس میان سرمچاروں نے قابض فوج کو جانی نقصانات سے دوچار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ 15 اکتوبر 2026 کو ڈیرہ مراد جمالی کے علاقے اُچ پاور ایریا میں سرمچاروں نے یوفون کمپنی کے ٹاور کی مشینری کو فائرنگ کر کے ناکارہ بنایا اور بعد میں اسے آگ لگا کر مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
ترجمان نے کہا کہ 14 اکتوبر 2026 کو سوراب کے علاقے حاجیکہ میں سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے کے لیے راستہ کلیئر کرنے والے پیدل اہلکاروں کو آئی ای ڈی (IED) سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 2 اہلکار ہلاک ہو گئے۔ اس کے بعد قافلے پر بھی گھات لگا کر حملہ کیا گیا، جس سے مزید 1 اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہو گئے۔
بی ایل ایف کے مطابق 10 اکتوبر 2026 کو ڈیرہ مراد جمالی شہر میں ربعی کے مقام پر مین ہائی وے پر گشت کرنے والے پولیس اور سی ٹی ڈی کے قافلے کو سرمچاروں نے حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پولیس اور سی ٹی ڈی کو نقصان کا سامنا رہا ہے۔
تنظیم نے مزید کہا کہ 10 اکتوبر 2026 کو ڈیرہ مراد جمالی کے علاقے بالان شاخ صدر تھانہ کی حدود میں سرمچاروں اور پولیس کے مابین شدید جھڑپ ہوئی۔ اس جھڑپ میں پولیس کے 2 اہلکار ہلاک ہو گئے جن کی شناخت احمد لاشاری اور مالک بگٹی کے ناموں سے ہوئی ہے، جبکہ سرمچار ان سے اسلحہ بھی ضبط کئے۔
ان کا کہنا تھا کہ 8 اکتوبر 2026 کو اسپلنجی میں سرمچاروں نے پاکستانی فوج کو دو مختلف مقامات پر حملوں میں نشانہ بنایا۔ قابض فوج اپنے اہلکاروں کی شفٹ تبدیل کرکے چھٹیوں پر جانے والوں کو روانہ کر رہی تھی۔ طے شدہ منصوبے کے تحت پہلا حملہ اس وقت کیا گیا جب فوج کا بڑا قافلہ اسپلنجی فوجی کیمپ کی طرف جا رہا تھا اور اس حملے میں پاکستانی فوج کے 2 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے بکہ دوسرا حملہ اسی روز شام 06 بجے اس وقت کیا گیا جب یہی قافلہ اسپلنجی کے علاقے مرو سے گزر رہا تھا، جہاں پہلے سے گھات لگائے سرمچاروں نے ایک بار پھر قابض فوج کے قافلے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مزید 2 اہلکار ہلاک اور 3 زخمی ہو گئے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ ان تمام کارروائیوں کہ ذمہ داری قبول کرتی ہے۔