لاطینی امریکی ملک کولمبیا میں پولیس کے ہاتھوں ایک شخص کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں ہونے والے احتجاج کے دوران 7 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہوگئے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز 46 سالہ وکیل اور دو بچوں کے والد جیویئر ہمبرٹو اورڈونیز کو مبینہ طور پر کورونا وائرس کے سماجی فاصلے کی خلاف ورزی پر پولیس نے روکا جس دوران ان کی پولیس سے ہاتھا پائی ہوئی۔
اس وقت جیویئر کے ساتھ موجود ان کے دوستوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں جیویئر کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ‘برائے مہربانی، مزید نہیں، میرا دم گھٹ رہا ہے۔’
تاہم اس درخواست کے باوجود دو پولیس اہلکاروں نے ان کی گردن کے پچھلے حصے پر اپنے گھٹنے سے زور دینا جاری رکھا اور انہیں مسلسل تکلیف دیتے رہے۔
اس کے بعد جیویئر کو پولیس نے حراست میں لے لیا اور ان کے اہلخانہ نے الزام لگایا کہ حراست میں ان پر مزید تشدد کیا گیا جس کے بعد وہ ہسپتال میں دم توڑ گئے۔
واضح رہے کہ کولمبیا میں کورونا وائرس کے باعث مارچ کے وسط سے لاک ڈاو¿ن نافذ تھا جس میں دو ہفتے قبل نرمی کردی گئی تھی۔
شہری کی ہلاکت پر بدھ کی دوپہر کو بوگوٹا میں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور اس پولیس اسٹیشن کو تباہ کردیا جس میں وہ پولیس افسران تعینات تھے۔
احتجاج کا سلسلہ بوگوٹا کے علاوہ دیگر شہروں میڈلین، پریڈا اور اِباگیو میں بھی جاری رہا، جہاں مظاہرین نے پولیس اسٹیشنز اور پبلک ٹرانسپورٹ کے انفرااسٹرکچر پر حملے کیے۔
شہر کے مغرب میں جمعرات کو بھی کشیدگی جاری رہی اور بوگوٹا کے میئر کلاو¿ڈیا لوپیز نے پولیس کے تشدد کو ‘ناقابل قبول’ قرار دینا، تاہم انہوں نے شہر میں تشدد کے واقعات کی بھی مذمت کی جس میں ہلاکتیں ہوئیں۔
کولمبیا کے وزیر دفاع کارلوس ہولمز نے کہا کہ بوگوٹا میں پرتشدد واقعات میں 7 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ملک بھر میں 150 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
حکومت نے دونوں پولیس افسران کو ان کے خلاف تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کردیا جبکہ جیویئر ہمبرٹو اورڈونیز کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔