کابل: افغان نائب صدر امر اللہ صالح پر بم حملہ ، 2 محافظ ہلاک

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں سڑک کنارے نصب بم حملے میں افغان نائب صدر امراللہ صالح کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا تاہم وہ حملے میں محفوظ رہے۔

امراللہ صالح کے ترجمان رضوان مراد کے مطابق افغانستان کے دشمنوں نے بدھ کو ایک مرتبہ پھر امراللہ صالح کو نشانہ بنایا لیکن وہ اپنے اس مقصد میں ناکام رہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ افغان نائب صدر سڑک کنارے نصب بم حملے میں محفوظ رہے ہیں تاہم ان کے محافظوں کو نقصان پہنچا ہے۔

افغان وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق حملے میں دو افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے ہیں جنہیں قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب افغانستان میں تاریخی اعتبار سے محفوظ سمجھے جانے والے صوبے پنجشیر میں 20 برسوں کے دوران پہلی مرتبہ منگل کو طالبان کی جانب سے حملہ کیا گیا۔

حکام کا دعویٰ ہے کہ طالبان حملہ آوروں نے متعدد افراد کو اغوا کر لیا ہے۔

صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے ضلع افشار کی ایک چیک پوسٹ پر بھی حملہ کیا اور وہاں سے افغان سیکیورٹی فورسز کے بھی کئی اہلکاروں کو اغوا کر لیا ہے۔

حکام کے مطابق طالبان کی صوبہ پنجشیر کے قریبی صوبوں میں موجودگی کے باوجود دو دہائیوں میں کبھی پنجشیر میں کوئی حملہ نہیں ہوا۔

ایک مقامی شہری محی الدین کے مطابق طالبان کے حملے کے بعد مقامی افراد نے اسلحہ اٹھا کر حملہ آوروں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی مدد کی۔

یاد رہے کہ حالیہ حملے ایسے موقع پر ہو رہے ہیں جب افغانستان میں طویل جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور طالبان کے درمیان فروری میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت فریقین آگے بڑھ رہے ہیں۔

مذکورہ معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ تقریباً مکمل ہونے کے قریب ہے اور اس کے بعد بین الافغان مذاکرات ہونا ہیں جس کے لیے افغان حکومت اور طالبان نے اپنے اپنے نمائندوں کا اعلان کر رکھا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment