گوادر میں جاری بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے ”آپریشن الماس“ کے سلسلے میں تنظیم نے مزید تین نئی آڈیو ریکارڈنگز جاری کی ہیں۔
ان آڈیوز میں میدانِ جنگ اور پاکستانی فوجی کیمپ کے اندر موجود بی ایل ایف کی خصوصی ”سدو آپریشنل بٹالین“ کے فدائین اپنے آپریشنل کمانڈر سے براہِ راست گفتگو کر رہے ہیں۔
آڈیو میں سرمچار پاکستانی فوج کی بزدلی پر ہنستے ہوئے تبصرہ کر رہے ہیں کہ کس طرح کئی اہلکار میدان چھوڑ کر بھاگ چکے ہیں یا کیمپ کے باہر گاڑیوں میں محصور ہو کر آگے بڑھنے کی سکت نہیں رکھتے۔
سرمچاروں کا کہنا ہے کہ بروقت جنگی حکمت علمی اور اصولوں کے تحت متعدد اہلکاروں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
فدائین نے تصدیق کی ہے کہ تمام جنگجو اب تک خیریت سے ہیں اور مسلسل لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس دوران آپریشنل کمانڈر نے انہیں ہدایات دی ہیں کہ چونکہ یہ معرکہ یا جنگ مزید ایک ہفتہ تک بھی جاری رہ سکتی ہے، اس لیے اپنے بارود اور گولوں کا احتیاط سے استعمال کریں اور شہدا کے خون کا انتقام ضرور لیں۔ جواب میں سرمچاروں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنے شہیدوں کا بدلہ ضرور لیں گے۔
ایک سرمچار گفتگو کے دوران بتاتا ہے کہ مکمل رات مکمل ہو چکی ہے مگر چاند کی روشنی اتنی تیز ہے کہ دن کا گمان ہوتا ہے۔ ان کے سامنے موجود تمام اہلکار یا تو مارے گئے ہیں یا دور روڈ پر جا کر کھڑے ہو چکے ہیں۔
آڈیو میں فدائین نے فخر سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے بی ایل ایف کا قومی پرچم فوجی کیمپ پر لہرا دیا ہے اور اس کی ویڈیو بھی جلد عوام تک پہنچ جائے گی۔
سرمچاروں نے بلوچ قوم سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ آگے آئیں اور اس تاریخی جنگ کا حصہ بنیں، کیونکہ پاکستانی فوج اب بلوچ سرمچاروں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتی اور یہی آزادی کا اصل موقع ہے۔