بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں بلوچستان اسمبلی کا جاری اجلاس بی ایل ایف کی گوادر میں جاری آپریشن الماس کی موصول ہونے والی تشویشناک اطلاعات کے باعث مختصر وقت کے بعد ہی ختم کر دیا گیا۔
اجلاس کی برطرفی کے بعد بلوچستان وزرا اور اسمبلی کے اکثر اراکین نے پریس گیلری میں موجود صحافیوں کا رخ کیا تاکہ گوادر میں جاری مسلح جھڑپوں، عسکری تنصیبات پر حملوں اور زمینی حقائق کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل کی جا سکیں۔
گوادر سے آنے والی اطلاعات کے مطابق، بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے "آپریشن الماس” کے تحت شہر کے مختلف حصوں میں شدید جھڑپیں جاری ہیں، اور سوشل میڈیا پر عسکری کیمپوں پر تنظیم کے پرچم لہرانے کی تصاویر بھی گردش کر رہی ہیں۔
علاوہ ازیں، متعدد اعلیٰ عسکری اہلکاروں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں جن کی بی ایل ایف نے تصدیق کی ہے۔
رکنِ اسمبلی اور حکومتی حلقوں کی جانب سے گوادر کے حالات پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم اس تمام صورتحال کے باوجود سرکاری یا عسکری حکام کی جانب سے شہر کے مختلف حصوں میں کنٹرول تبدیل ہونے یا نقصانات کے حوالے سے کوئی باضابطہ تردید یا تصدیق جاری نہیں کی گئی، جس کے باعث سیاسی و انتظامی حلقوں میں بے یقینی کی فضا برقرار ہے۔