پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل اتحادی جماعتوں کے اکابرین کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس پریس گیلری میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے دوران جو شخص اس سارے ڈرامے کا انچارج تھا، وہ رات کے اندھیرے میں تقریباً ڈھائی تین بجے پوری ٹیم کے ساتھ میرے گھر آیا۔
وہ پوری ٹیم سمیت، جو چمن سے لے کر کوئٹہ تک اس سارے نظام کو چلا رہے تھے، آئے اور بیٹھ گئے۔ چمن کی دونوں صوبائی نشستیں، اور ساتھ ہی چمن کی قومی اسمبلی کی نشست جس پر میں کھڑا تھا، جس پر نقوی صاحب نے کہا کہ فارم 47، میں نے الزام لگایا ہے۔
جب وہ صاحب میرے گھر سے نکلے تو انہوں نے ہماری پارٹی کے ایک آدمی کو ٹیلی فون کیا کہ تمہاری پارٹی کو ایک نشست بھی نہیں دیں گے۔میری نشست سمیت چاروں صوبائی نشستیں انہوں نے ہم سے چھین لیں۔
وہ جنرل فیصل نصیر تھے۔ جنرل فیصل نصیر صاحب نے نکل کر کہا تھا کہ انہیں ایک بھی نشست نہیں دیں گے۔ میری نشست پر بلوچستان کا جو لڑکا ہارا ہوا تھا، اسے جتوایا گیا۔ چار نشستیں تو انہوں نے ویسے ہی چھین لیں لیکن جب قومی اسمبلی کی نشست پر اس ریٹرننگ افسر کو کہا گیا۔
تو اس نے کہا کہ دیکھو میرے پاس پستول ہے، یہ ہمارے علاقے کا بوڑھا آدمی ہے، اور یہ نشست جیتا ہوا ہے، میں یہ کام نہیں کر سکتا۔ اس نے کہا کہ اس پستول سے یا میں خود کو مار لوں گا، یا آپ مجھے مار دیں، تب ہی میں یہ نتیجہ تبدیل کروں گا۔اس طرح میں فارم 47 کے تحت آیا ہوں۔
میں نے اس لیے جواب نہیں دیا کیونکہ نقوی صاحب کو کسی شریف آدمی نے یہ بات کہی ہوگی اور وہ بھروسہ کر گئے ہوں گے۔ مجھے اندازہ ہے کہ کس نے کہا ہوگا، لیکن میں کسی کا نام نہیں بتاتا۔