میری نشست سمیت چاروں صوبائی نشستیں چھینے والے فیصل نصیر تھے، محمو د اچکزئی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل اتحادی جماعتوں کے اکابرین کے ہمراہ پارلیمنٹ ہاؤس پریس گیلری میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے دوران جو شخص اس سارے ڈرامے کا انچارج تھا، وہ رات کے اندھیرے میں تقریباً ڈھائی تین بجے پوری ٹیم کے ساتھ میرے گھر آیا۔

وہ پوری ٹیم سمیت، جو چمن سے لے کر کوئٹہ تک اس سارے نظام کو چلا رہے تھے، آئے اور بیٹھ گئے۔ چمن کی دونوں صوبائی نشستیں، اور ساتھ ہی چمن کی قومی اسمبلی کی نشست جس پر میں کھڑا تھا، جس پر نقوی صاحب نے کہا کہ فارم 47، میں نے الزام لگایا ہے۔

جب وہ صاحب میرے گھر سے نکلے تو انہوں نے ہماری پارٹی کے ایک آدمی کو ٹیلی فون کیا کہ تمہاری پارٹی کو ایک نشست بھی نہیں دیں گے۔میری نشست سمیت چاروں صوبائی نشستیں انہوں نے ہم سے چھین لیں۔

وہ جنرل فیصل نصیر تھے۔ جنرل فیصل نصیر صاحب نے نکل کر کہا تھا کہ انہیں ایک بھی نشست نہیں دیں گے۔ میری نشست پر بلوچستان کا جو لڑکا ہارا ہوا تھا، اسے جتوایا گیا۔ چار نشستیں تو انہوں نے ویسے ہی چھین لیں لیکن جب قومی اسمبلی کی نشست پر اس ریٹرننگ افسر کو کہا گیا۔

تو اس نے کہا کہ دیکھو میرے پاس پستول ہے، یہ ہمارے علاقے کا بوڑھا آدمی ہے، اور یہ نشست جیتا ہوا ہے، میں یہ کام نہیں کر سکتا۔ اس نے کہا کہ اس پستول سے یا میں خود کو مار لوں گا، یا آپ مجھے مار دیں، تب ہی میں یہ نتیجہ تبدیل کروں گا۔اس طرح میں فارم 47 کے تحت آیا ہوں۔

میں نے اس لیے جواب نہیں دیا کیونکہ نقوی صاحب کو کسی شریف آدمی نے یہ بات کہی ہوگی اور وہ بھروسہ کر گئے ہوں گے۔ مجھے اندازہ ہے کہ کس نے کہا ہوگا، لیکن میں کسی کا نام نہیں بتاتا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article