گوادر میں لکڑی و جنگلاتی پیداوار کی ترسیل پر پابندی عائد،فوج کو باغات و نباتات کی کٹائی و جلانے پر مکمل چھوٹ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

حکومتِ بلوچستان نے گوادر سمیت بلوچستان بھر میں لکڑی اور جنگلاتی پیداوار کی غیر مجاز نقل و حمل پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستانی فوج کی جانب سے دفاعی حکمتِ عملی کے نام پر بلوچستان بھر میں پھل دار باغات اور قدرتی نباتات کی بڑے پیمانے پر کٹائی، جلانے اور تباہی نے سرکاری دعوؤں اور عملی اقدامات کے درمیان شدید تضاد کو واضح کر دیا ہے۔

ڈپٹی کنزرویٹر جنگلات ضلع گوادر، اسد اللہ کے مطابق محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان کے حکم نامے کے تحت دفعہ 144 ضابطہ فوجداری 1898ء نافذ کر کے لکڑی اور جنگلاتی پیداوار کی ترسیل پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔

انتظامیہ نے انتباہ جاری کیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں بلوچستان فاریسٹ ایکٹ 2022ء اور دیگر قوانین کے تحت سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور ضبط شدہ سامان کو کسی پرمٹ پر بھی رہا نہیں کیا جائے گا۔

ایک طرف حکومت بشمول سول انتظامیہ جنگلات کی حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کا حوالہ دے رہی ہے، تو دوسری جانب فوج کی کارروائیاں بلوچستان کے معاشی اور ماحولیاتی ڈھانچے کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو رہی ہیں۔

بلوچستان میں جن علاقوں میں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کی کارروائیوں میں شدت آئی ہے، وہاں سیکیورٹی فورسز نے انار اور سیب کے قیمتی باغات، فصلوں اور قدرتی درختوں کی کٹائی تیز کر دی ہے۔ حال ہی میں سوراب اور وڈھ میں کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے کھلے عام یہ بیان دیا اور حکومتی و عسکری سطح پر احکامات جاری کیے کہ چونکہ مسلح افراد باغات میں پناہ لیتے ہیں، اس لیے سیکیورٹی آپریشنز کے نام پر ان باغات کو کاٹنا ضروری ہے۔

اطلاعات کے مطابق فورسز نے صرف باغات تک ہی بس نہیں کیا بلکہ ضلع آواران، کیچ اور خضدار سمیت متعدد پہاڑی علاقوں میں قدرتی طور پر اگنے والے ‘پیش’ (جسے مقامی سطح پر چٹائیوں اور دیگر ضروری اشیاء بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے) کے وسیع میدانوں کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا ہے، تاکہ مسلح افراد کو چھپنے کی جگہ نہ مل سکے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز بلوچستان میں اس حد تک دفاعی پوزیشن میں چلی گئی ہیں کہ وہ عوام کو حفاظت فراہم کرنے کے بہانے، درحقیقت خود کو بچانے کے لیے بلوچستان کا بنیادی ماحولیاتی، زراعت اور مقامی معاشی ڈھانچہ خود اپنے ہاتھوں تباہ کر رہی ہیں، جبکہ سول انتظامیہ کے پاس اس تباہی پر خاموشی اختیار کرنے اور نمائشی پابندیاں لگانے کے سوا کوئی اختیار نہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article