بلوچستان کے ضلع قلات کی تحصیل منگچر سے پولیس کے سینئر افسر ایس ایچ او علی اصغر نیچاری اپنے گن مین سلمان سمیت پراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے ہیں، جس کے بعد علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایس ایچ او علی اصغر نیچاری معمول کی پٹرولنگ کی غرض سے پولیس اسٹیشن سے ایک نجی گاڑی میں روانہ ہوئے تھے، جس کے بعد ان سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ دونوں اہلکاروں کے اب تک کسی سراغ نہ ملنے کے باعث ان کے اغوا کیے جانے کا قوی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم واقعے کی حتمی تفصیلات کا انتظار ہے۔
بلوچستان میں حالیہ دنوں کے دوران سرکاری و انتظامی افسران کے اغوا اور غائب ہونے کے واقعات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
گزشتہ روز ضلع خاران کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کو بھی مسلح افراد نے روڈ سے اغوا کر لیا تھا، جو بعد ازاں بازیاب ہو کر بحفاظت اپنے گھر پہنچ گئے۔ تاہم، اس کارروائی کی ذمہ داری کسی بھی گروہ نے قبول نہیں کی تھی۔
اس سے قبل اسسٹنٹ کمشنر تمپ کو بھی مسلح افراد نے تحویل میں لے لیا تھا اور کچھ عرصے بعد رہا کر دیا تھا۔ اس کارروائی کی باقاعدہ ذمہ داری بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم ‘بلوچ لبریشن فرنٹ’ (BLF) نے قبول کی تھی۔
منگچر میں ایس ایچ او اور ان کے گن مین کے غائب ہونے کی ذمہ داری تاحال کسی بھی مسلح تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔
دوسری جانب، مقامی ذرائع اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں پاکستانی فوج کی سرپرستی میں متحرک مقامی ملیشیا اور نام نہاد ‘ڈیتھ اسکواڈز’ بھی علاقے میں اغوا برائے تاوان، راہزنی اور دیگر جرائم میں ملوث رہے ہیں۔ ان گروہوں کی موجودگی اور کھلی چھوٹ کے باعث ریاستی اہلکاروں کے ایسے پراسرار طور پر غائب ہونے کی نوعیت پر متعدد سوالات جنم لے رہے ہیں۔