بلوچستان کے زیارت کے علاقے روست کچھ میں نامعلوم افراد نے رات کی تاریکی میں ایک باغ میں داخل ہو کر پھل دار سیب کے 70 درختوں کو کاٹ دیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔
اس واقعے سے باغ مالک کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس پر علاقہ مکینوں اور باغ مالکان نے گہری تشویش اور غصے کا اظہار کیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اچانک پیش آیا جہاں لگی لگائی فصل اور دہائیوں پر محیط محنت سے اگائے گئے پھل دار درختوں کو کلہاڑیوں اور آریوں کی مدد سے تباہ کر دیا گیا۔ باغ مالکان اور شہریوں نے انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے واقعے کا فوری نوٹس لینے، شفاف تحقیقات کروانے اور ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں پاکستانی فورسز پر بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیموں کی جانب سے ہونے والے مہلک حملوں کے بعد فورسز اور انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے سیکیورٹی کے نام پر باغات اور درختوں کو کاٹنے کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے۔
پاکستانی فوج کا مؤقف رہا ہے کہ مستونگ، کھڈ کوچہ، سوراب، زیارت اور ضلع آواران سمیت مختلف علاقوں میں باغات اور پیش کے پودے سیکیورٹی کے لیے خطرہ بنتے ہیں، کیونکہ ان کی آڑ میں مسلح افراد چھپ کر حملے کرتے ہیں۔ اس دلیل کے تحت اب تک ان علاقوں میں وسیع پیمانے پر باغات، درختوں اور قدرتی پودوں کو کاٹ کر یا جلا کر ختم کیا جا چکا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی زمینداروں اور باغبانوں کو کروڑوں روپے کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔