شدید بارش کے بعد بھر جانے والے حب ڈیم کے بارے میں واپڈا نے خبر دار کیا ہے کہ کئی سال سے مرمت نہ ہونے کے باعث ڈیم کی دیواریں کمزور ہو چکی ہیں، فوری توجہ نہ دی گئی تو پانی کے بے تحاشہ دباؤ کے سبب ڈیم ٹوٹ بھی سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حب ڈیم سے بجلی بنانے کا منصوبہ پاکستانی پارلیمنٹ میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد سے کھٹائی میں پڑا ہوا ہے ۔
چوبیس ہزار 300 ایکڑ کے وسیع رقبے پر محیط حب ڈیم کراچی کی 20 فیصد اور حب کی 100 فیصد پانی کی ضرورت پوری کرتا ہے، جو حالیہ بارشوں کے نتیجے میں اپنی پوری گنجائش تک بھر چکا ہے۔
چیف انجینئر واپڈا محمد احتشام الحق کا کہنا ہے کہ یہ پانی 3 سال تک کراچی اور حب کی ضروت پوری کرنے کیلئے کافی ہے، لیکن برسوں سے مرمت نہ ہونے کے باعث لبالب بھرے ڈیم کے ٹوٹنے کا خطرہ بھی ہے۔
دوسری جانب شہریوں نے توقع ظاہر کی کہ ڈیم بھر جانے کے بعد اب انھیں پانی نلکوں میں ملے گا اور انہیں ٹینکر مافیا سے نجات مل جائے گی۔