حکومت بلوچستان کے معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے بولان میڈیکل کالج کے گرلز ہاسٹل میں گذشتہ شب جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے گئے نرسنگ طالبہ خدیجہ بلوچ کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ عسکریت پسندوں کی سہولت کار ہیں ۔
اپنے بیان میں بابر یوسفزئی نے دعویٰ کیا ہے کہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز سے گرفتار ہونے والی لڑکی کیخلاف دہشتگردوں کی معاونت اور سہولت کاری کے واضح ثبوت ملے تھے سہولت کاری کے شواہد سامنے آئے جس پر قانونی طریقے سے کارروائی کی گئی۔
یاد رہے کہ گذشتہ شب ہاسٹل پر فورسز نے چھاپہ مارکر خدیجہ بلوچ کو گرفتار کرکے لے گئے جس بعد اسے کسی بھی تھانے میں پیش نہیں کیاگیا تھا ۔
بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ مذکورہ لڑکی کو قوانین کے مطابق انٹرنمنٹ و ڈٹینشن سینٹر میں رکھا گیا ہے، حکومت بلوچستان کی جانب سے حراست کے احکامات گزشتہ روز جاری کیے گئے اور اہل خانہ کو بھی قانونی تقاضوں کے مطابق حراست سے آگاہ کر دیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام کارروائی قانون اور ایس او پیز کے مطابق عمل میں لائی گئی ،معاملہ مکمل طور پر قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہینڈل کیا جا رہا ہے، غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کیا جائے۔
یاد رہے کہ بولان یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز سے طالبہ کی گرفتاری کے خلاف بروری روڈ کو بلاک کرکے احتجاج کیا جس سے ہر قسم کی ٹریفک معطل ہوگئی واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور روڈ کو کھلوا دیا ۔