بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں آل پارٹیز کیچ کے زیرِ اہتمام اتوار کو ریلی اور احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔
ریلی اور مظاہرہ ضلع کیچ میں بے امنی، ایرانی سرحد سے تجارت کی بندش اور لوگوں کی معاشی مشکلات کے خلاف منعقد کیا گیا۔
ریلی کے شرکاء نے شہر کے مختلف شاہراہوں کا گشت کیا اور بعد میں احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا۔
نیشنل پارٹی کے ترجمان علی احمد بلوچ کا کہنا ہے کہ ریلی میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ ضلع بے امنی کا شکار ہے اور قتل اور دیگر سنگین بے امنی کے واقعات ایک معمول بن گئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ جہاں لوگ بے امنی کے واقعات کے باعث پریشانی سے دوچار ہیں وہاں ایران سرحد سے تجارت کی مبینہ بندش نے لوگوں کی مالی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔
آل پارٹیز کیچ کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ بے امنی کے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں اور ایران سے سرحدی تجارت کو معمول کے مطابق بحال کیا جائے۔
انھوں نے کہا کہ اگر آل پارٹیز کیچ کے مظالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو احتجاج کے دائرے کو وسیع کیا جائے گا۔
دوسری جانب پارلیمانی سیکریٹری برائے اسپورٹس و امور نوجوانان حکومت بلوچستان مینا مجید بلوچ کا کہنا ہے کہ بارڈر کے نام پر نیشنل پارٹی کے احتجاج کو عوام نے مسترد کر دیا ہے۔
ایک بیان میں اُنھوں نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ کے معاملے پر حکومت بخوبی آگاہ ہے۔ آئی جی ایف سی کی جانب سے پہلے ہی واضح کیا جا چکا ہے کہ جالگی بارڈر کھولنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ تاہم ایرانی حکام کے بعض تحفظات موجود ہیں جنھیں دونوں جانب کے حکام باہمی رابطے اور مذاکرات کے ذریعے جلد حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔