اردوکے معروف شاعرہ فہمیدہ ریاض کی بیٹی نے پاکستان میں صحافیوں اور ادیبوں کے اغوا اور تشدد کے خلاف احتجاج کے طور پر اپنی مرحومہ والدہ کے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ صدارتی ایوارڈ لینے سے انکار کردیا۔
خیال رہے کہ اپنے اپنے شعبوں میں عمدہ کارکردگی اور بہترین خدمات کا مظاہرہ کرنے پرپاکستان حکومت کی جانب سے سال میں ایک مرتبہ سول ایوارڈ دیا جاتا ہے۔
پاکستان کے صدر عارف علوی نے گزشتہ برس 14 اگست کو ‘ یوم آزادی ‘کے موقع پرفہمیدہ ریاض سمیت 116 شخصیات کو سوال ایوارڈ ز کے لیے نامزد کیا تھا۔
تاہم عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث رواں برس 23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقع پر صدارتی ایوارڈز کی تقریب منعقد نہیں کی گئی تھی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر کی گئی پوسٹ میں ان کی بیٹی ویرتا علی ا±جن نے لکھا کہ ایوارڈز سیکشن مجھ سے امی کے ایوارڈ کی تقریب سے متعلق رابطہ کررہا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ میں اس وقت ان کے کام کے لیے ایوارڈ کیسے قبول کرسکتی ہوں؟ یہ انصاف اور مساوات کے لیے ان کی زندگی بھر کی جدوجہد کی توہین ہوگی۔
فہمیدہ ریاض کی بیٹی نے کہا کہ مصنفین اور صحافیوں کو اغوا کیا جاتا ہے، ان پر تشدد کیا جاتا ہے یہاں تک کہ قتل کردیا جاتا ہے، ہراساں کرنے والوں کو ایوارڈ دیے جارہے ہیں اور کراچی کو سیوریج میں سڑنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی والدہ کے کام کے لیے صدارتی ایوارڈ لینے سے انکار کرتی ہوں، میں پریقین ہوں کہ اگر وہ آج زندہ ہوتیں تو وہ بھی انکار کرتی ہیں۔
فہمیدہ ریاض 1946 میں میروت میں پیدا ہوئی تھیں اور اپنے وقت میں اردو کے نامور شعرا میں سے ایک تھیں۔
وہ سماجی ناقد تھیں، وہ انسانی حقوق کی متعدد تحریکوں میں سرگرم تھیں اور ان لوگوں میں شامل تھیں جنہوں نے جنرل ضیاالحق کی فوجی حکمرانی اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف مہم چلائی تھی۔ فہمیدہ ریاض کی عمر 72 سال تھی، ان کا انتقال 21 نومبر 2018 کو ہوا تھا۔
اس سے قبل ایک سندھی ادیب و مورخ سائیں تاج جویو نے بھی اپنے بیٹے سارنگ جویو اور دیگر سندھیوں کی پاکستانی فوج کے ہاتھو ں جبری گمشدگی کی وجہ سے صدارتی ایوارڈ (نشانِ پاکستان) لینے سے انکار کردیا تھا۔