زہری میں کرفیو ،عوام مشکلات سے دوچار، سوراب میں فوجی جارحیت سے خواتین و بچوں سے بدسلوکی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے زہری میں گزشتہ چار روز سے مکمل کرفیو نافذ ہے، جس کے باعث مقامی آبادی شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ دوسری جانب ضلع سوراب کے نواحی علاقے لغاڑ میں پاکستانی فورسز کی جانب سے وسیع پیمانے پر آپریشن کیا گیا، جس میں گھروں پر چھاپوں اور خواتین و بچوں کے ساتھ بدسلوکی کی شکایات سامنے آئی ہیں۔

زہری سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کرفیو کے باعث تمام بازار، کاروباری مراکز، ٹرانسپورٹ اور آمد و رفت مکمل طور پر بند ہیں۔ رابطہ سڑکوں کی بندش نے شہریوں کی روزمرہ زندگی مفلوج کر دی ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ چار روزہ طویل پابندی کے نتیجے میں اشیائے خورد و نوش کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، جبکہ رمضان المبارک کے مہینے میں عوام بنیادی ضروریات تک رسائی نہ ہونے کے باعث سخت پریشانی میں مبتلا ہیں۔

کئی علاقوں میں خوراک کی کمی کے باعث شیر خوار بچے بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں، جبکہ مریض مناسب طبی سہولیات اور ادویات نہ ملنے کے باعث شدید اذیت میں ہیں۔ رابطہ راستوں کی بندش کے سبب زہری سے ملحقہ دیہی علاقے بھی مکمل طور پر کٹ گئے ہیں، جس سے وہاں کے رہائشی مزید مشکلات میں گھر گئے ہیں۔

شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی بنیادوں پر کرفیو میں فوری نرمی کی جائے اور خوراک و ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

ادھر سوراب کے نواحی علاقے لغاڑ میں فورسز نے ایک بڑے آپریشن کے دوران متعدد گھروں پر چھاپے مارے، تلاشی لی اور املاک کو نقصان پہنچایا۔

مقامی لوگوں کے مطابق بڑی تعداد میں اہلکار گاڑیوں کے ہمراہ علاقے میں داخل ہوئے اور مختلف محلوں میں گھروں کو گھیرے میں لے کر کارروائیاں کیں۔ اس دوران بعض گھروں کے دروازے اور کھڑکیاں توڑنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

رہائشیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ تلاشی کے دوران خواتین اور بچوں کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا گیا، انہیں دھکے دیے گئے اور بعض کو زد و کوب بھی کیا گیا۔ کئی گھروں میں فرنیچر اور دیگر سامان کو نقصان پہنچنے کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں۔

دونوں علاقوں میں جاری صورتحال کے باعث عوام میں شدید بے چینی اور خوف کی فضا برقرار ہے۔

Share This Article