خضدار میں ناکہ بندی دوران خفیہ ادارے کے 2 اہلکار ہلاک، کیچ میں فورسز کی گاڑی پر حملہ

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے خضدار میں بلوچ عسکریت پسندوں کے ناکہ بندی کے دوران فرار کی کوشش میں پاکستانی انٹیلی جنس ادارے کے 2 اہلکار فائرنگ سے ہلاک اور ایکا گرفتارجبکہ ضلع کیچ کے علاقے تجابان میں فورسز کی گاڑی کو بم سے نشانہ بنایا گیا ہے ۔

ضلع خضدار کی تحصیل کرخ گزشتہ ہفتے کے حملوں کے بعد ایک بار پھر بلوچ آزادی پسند علاقے میں داخل ہوکر سی پیک شاہراہ پر چیک پوائنٹ قائم کرکے ناکہ بندی کردی ہے۔

اطلاعات کے مطابق مسلح افراد نے ناکہ بندی کے دوران فرار کی کوشش میں 2 افراد کو ہلاک اور ایک کو گرفتار کرلیا، جن کا تعلق مبینہ طور پر پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے بتایا جارہا ہے۔

واقعے کے بعد پاکستانی فورسز نے پیش قدمی کی کوشش کی ہے، جہاں فورسز اور بلوچ آزادی پسندوں کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

واضح رہے کہ اس سے قبل 4 مارچ کو بھی بڑی تعداد میں بلوچ آزادی پسند کرخ شہر میں داخل ہو کر پولیس تھانوں اور سرکاری املاک کو تباہ کرچکے تھے۔

مذکورہ حملوں کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ نے قبول کی تھی، جبکہ آج ہونے والے حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے۔

دوسری جانب ضلع کیچ کے علاقے تجابان میں پاکستانی فورسز کی گاڑی پر حملے میں ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

سرکاری ذرائع نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ تجابان میں ایف سی کے قافلے میں شامل ایک گاڑی کو نامعلوم افراد نے دھماکہ خیز مواد کے ذریعے نشانہ بنایا۔

حملے کے نتیجے میں گاڑی کو نقصان پہنچا، جبکہ دو اہلکار زخمی ہوگئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر قریبی طبی مرکز منتقل کر دیا گیا، جبکہ فورسز نے واقعہ کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی ہے۔

Share This Article